ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السکینة: طمأنینت، سکون قلب، اور وہ روحانی سکون جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔
- لِیَزدادُوا: تاکہ وہ بڑھ جائیں، زیادہ ہو جائیں۔
- جُنُود: لشکر، فوجیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے اپنے مومن بندوں کے دلوں میں سکینت (طمأنینت اور سکون) نازل فرمائی۔ یہ سکینت غزوہ حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی، جب مسلمانوں کے دلوں میں کچھ اضطراب اور بے چینی تھی، کیونکہ صلح کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی اور بعض صحابہ کرام کو اس میں کچھ تأخیر محسوس ہو رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا سکون اور اطمینان ڈالا کہ وہ مطمئن ہو گئے اور یقین کامل حاصل ہو گیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات حق ہے۔
یہ سکینت اس لیے نازل کی گئی تاکہ وہ اپنے پہلے ایمان کے ساتھ مزید ایمان اور یقین حاصل کریں، اور ان کا تصدیق اور اتباع اور بڑھ جائے۔ یعنی ایمان میں اضافہ ہوتا رہے، جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور عظمت کا ذکر فرماتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اسی کے لیے ہیں۔ وہ جسے چاہے اپنے ان لشکروں سے مدد دے، اور اگر وہ چاہتا تو اپنے دین کی نصرت بغیر تمہارے بھی کر سکتا تھا، لیکن اس نے تمہیں اس عظیم اعزاز کے لیے چنا۔ یہ بات مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور اطمینان کا باعث ہے کہ ان کی مدد اللہ کے لشکروں سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے، ان کے دلوں کی کیفیت جانتا ہے، اور وہ حکیم ہے، یعنی اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔ جو کچھ وہ کرتا ہے، اپنی حکمت کے مطابق کرتا ہے، خواہ وہ نصرت ہو یا آزمائش، سب کچھ اس کی حکمت اور علم کے مطابق ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور رہنمائی ہے۔ جب بھی دل گھبرائے، پریشانی ہو، یا مشکلات کا سامنا ہو، تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے دلوں میں سکینت نازل فرماتا ہے۔ یہ سکینت دعا، ذکر، اور قرآن کی تلاوت سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب" (الرعد: 28)۔ یعنی اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔
آج کے اس پرآشوب دور میں جب انسان مادی ترقی کے باوجود قلبی سکون سے محروم ہے، یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی سکون صرف اللہ کے قریب ہونے سے ملتا ہے۔ جب دل ایمان سے بھر جاتا ہے اور اللہ پر بھروسہ مضبوط ہو جاتا ہے، تو پھر کوئی پریشانی، کوئی مشکل، کوئی دشمن آپ کو متزلزل نہیں کر سکتا۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ کے لشکر بے شمار ہیں، وہ چاہے تو ایک پل میں حالات بدل دے۔ ہمیں صرف اپنا کام کرنا ہے، صبر اور تقویٰ اختیار کرنا ہے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، وہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، ان کے دلوں میں سکون ڈالتا ہے اور ان کی مدد فرماتا ہے۔
آئیے ہم سب اس آیت پر غور کریں اور اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر اور ایمان کی روشنی سے منور کریں، تاکہ ہم بھی اس سکینت کے حقدار بن سکیں جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کو عطا فرمائی ہے۔
📜 آیت 2-6 — فتح
ترجمہ — فتح 4
سورہ فتح آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی…سورہ آیت 4/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








