Yaa ayyuhal lazeena aamanoo laa tarfa`ooo aswaatakum fawqa sawtin Nabiyi wa laa tajharoo lahoo bilqawli kajahri ba`dikum liba `din an tahbata a `maalukum wa antum laa tash`uroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، صداى خود را از صداى پيامبر بلندتر مكنيد و همچنان كه با يكديگر بلند سخن مىگوييد با او به آواز بلند سخن مگوييد، كه اعمالتان ناچيز شود و آگاه نشويد.
اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ: اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو۔
فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اوپر۔
وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ: اور ان سے اونچی آواز میں بات نہ کرو۔
کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ: جس طرح تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو۔
أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُکُمْ: اس خوف سے کہ تمہارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔
لَا تَشْعُرُونَ: تمہیں احساس بھی نہ ہو۔
تفسیر:
اے ایمان والو! یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لائے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادب سکھا رہا ہے۔ جب تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرو تو اپنی آوازوں کو ان کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ہی ان سے اس طرح اونچی آواز میں گفتگو کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ انہیں تمہارے درمیان ایک عام آدمی کی طرح نہ سمجھو، بلکہ ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ انہیں "یا رسول اللہ" اور "یا نبی اللہ" کہہ کر پکارو، نرمی اور ادب کے ساتھ گفتگو کرو۔
یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال کا ثواب ضائع ہو جائے اور تمہیں اس کا احساس بھی نہ ہو۔ کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور ادب دراصل اللہ کی تعظیم ہے، اور جو شخص ان کے ساتھ بے ادبی کرتا ہے، اس کے اعمال اسی وقت برباد ہو سکتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں، ان کی تعظیم کریں، اور ان کے ساتھ ہر معاملے میں ادب کا دامن نہ چھوڑیں۔ یہ ادب صرف ان کی حیاتِ ظاہری تک محدود نہیں، بلکہ آج بھی جب ہم ان کا ذکر کریں، ان کی حدیث پڑھیں، یا ان کی سنت پر عمل کریں، تو ہمیں اسی ادب اور محبت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے، اور اس کے اعمال کو قبول فرماتا ہے۔
اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔