اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ
📜
ترجمہ — Tafsir
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
معانی الفاظ:
اتقوا اللہ: اللہ سے ڈرو، اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچو۔
الوسیلہ: قرب حاصل کرنے کا ذریعہ، یعنی وہ عمل جس سے بندہ اللہ کے قریب ہو جائے۔
جہاد: کفار سے لڑنا اور اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال خرچ کرنا۔
فلاح: کامیابی، نجات، اور جنت کا حصول۔
تفسیر:
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اللہ سے ڈرو، یعنی اس کے تمام احکام کو بجا لاؤ اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو، یعنی اپنے اعمالِ صالحہ، عبادات، اور اطاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔ وسیلہ وہ ذریعہ ہے جو تمہیں اللہ کے قریب کرے، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، صدقہ، ذکر، اور نیک اعمال۔ یہ سب چیزیں تمہارے اور اللہ کے درمیان قربت کا ذریعہ بنتی ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی راہ میں جہاد کرو، یعنی اپنی جان، مال، اور وقت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ جہاد کا مطلب صرف جنگ نہیں، بلکہ اپنے نفس سے لڑنا، شیطان کے وسوسوں سے بچنا، اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشش کرنا بھی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کرو تاکہ تم فلاح پاؤ، یعنی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جاؤ، جنت میں داخل ہو جاؤ، اور اللہ کے عذاب سے بچ جاؤ۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے لیے ایک جامع ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبانی اقرار نہیں، بلکہ عملی زندگی میں تقویٰ، قربتِ الٰہی کا حصول، اور اللہ کی راہ میں جدوجہد ہے۔ جب ہم یہ تینوں چیزیں اپناتے ہیں تو ہماری زندگی میں برکتیں آتی ہیں، ہمارے دلوں کو سکون ملتا ہے، اور ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے قریب آئیں، اس لیے اس نے ہمیں وسیلہ اور جہاد کا راستہ دکھایا ہے۔ آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم فلاح پائیں۔
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔