Uhilla lakum saidul bahri wa ta`aamuhoo mataa`al lakum wa lissaiyaarati wa hurrima `alaikum saidul barri maa dumtum hurumaa; wattaqul laahal lazeee ilaihi tuhsharoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
شكار دريايى و خوردن آن به جهت بهرهمند شدنتان از آن، بر شما و مسافران حلال شده است. و شكار صحرايى تا هنگامى كه در احرام هستيد بر شما حرام شده. از خداوندى كه به نزد او گرد آورده مىشويد بترسيد.
تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
صید البحر: شکار جو سمندر یا پانی سے صید کیا جائے، یعنی آبی جانور۔
طعامہ: اس کا کھانا، یعنی سمندر کا مردار جو پانی سے نکلا ہو۔
مَتَاعًا: فائدہ اٹھانے کے لیے، تمتع کے طور پر۔
السَّیَّارَةِ: مسافر، راہ چلنے والے۔
حُرُمًا: احرام کی حالت میں، حج یا عمرہ کا احرام باندھے ہوئے۔
تُحْشَرُونَ: جمع کیے جاؤ گے، قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے فضل و کرم کا اظہار فرماتا ہے کہ اس نے تمہارے لیے سمندر کا شکار حلال کیا ہے، خواہ وہ زندہ صید کیا جائے یا سمندر کا مردار جو پانی سے باہر آ جائے، جیسے مچھلی وغیرہ۔ یہ تمہارے لیے اور تمہارے ساتھ آنے والے مسافروں کے لیے فائدہ اور رزق کا ذریعہ ہے، تاکہ تم قیامت کے دن اس نعمت کا شکر ادا کرو۔ لیکن احرام کی حالت میں اللہ نے تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا ہے، چاہے وہ جانور پالتو ہو یا جنگلی، کیونکہ احرام کی حالت میں انسان اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے اور اسے اپنی نفسانی خواہشات اور دنیاوی مشاغل سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔
اس حکم کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقویٰ کی تلقین فرماتا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے اور قیامت کے دن تم اس کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دو گے۔ یہ آیت مسلمانوں کو اللہ کی رحمت اور اس کے احکام کی پابندی کی دعوت دیتی ہے، اور ساتھ ہی یہ یاد دلاتی ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے جو حلال کیا ہے اسے حلال سمجھو اور جو حرام کیا ہے اس سے بچو، تاکہ تم دنیا میں بھی سکون حاصل کرو اور آخرت میں بھی کامیاب ہو جاؤ۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ کی رحمت کا ایک عظیم جلوہ نظر آتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر تنگی نہیں کی، بلکہ ان کی ضروریات اور مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے احکام دیے۔ سمندر کا شکار حلال کر کے اس نے مسافروں اور مقیم لوگوں دونوں کے لیے رزق کا دروازہ کھول دیا، جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے شکار کی ممانعت سے بندے کو اللہ کی عبادت پر توجہ دینے اور دنیاوی مشاغل سے بچنے کی تربیت دی۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے احکام میں ہمیشہ بندے کی بھلائی ہوتی ہے، چاہے وہ حلال ہو یا حرام، اور ہمیں اپنے رب کی اطاعت میں ہی سکون اور کامیابی ملتی ہے۔ اللہ سے ڈرو اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو، کیونکہ وہی ہے جو تمہیں قیامت کے دن اپنے حضور جمع کرے گا اور اپنے فضل سے تمہیں جزا دے گا۔
مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے
تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو
خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔