ق · 33/45
ترجمہ تلفظ — ق
مَّنۡ خَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِ وَجَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِيبٍ  ۝٣٣
Man khashiyar Rahmaana bilghaibi wa jaaa`a biqalbim muneeb
📖 اردو ترجمہ
جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ: اللہ سے اس حالت میں ڈرنا جب انسان اسے نہیں دیکھ رہا ہو، یعنی خلوت میں بھی اللہ کا خوف دل میں رکھنا۔
  • قَلْبٍ مُّنِيبٍ: وہ دل جو گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرے، اور ہر معاملے میں اللہ ہی کی طرف مائل ہو۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ان متقیوں کے بارے میں ہے جنہیں قیامت کے دن وہ عظیم انعام دیا جائے گا جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نعمت اُن لوگوں کے لیے ہے جو اللہ رحمٰن سے غیب میں ڈرتے ہیں، یعنی جب کوئی انہیں نہیں دیکھ رہا ہوتا، تب بھی وہ اللہ کے خوف سے گناہوں سے بچتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے، چاہے لوگ نہ دیکھیں۔ یہی خوفِ الٰہی انہیں ہر برائی سے روکتا ہے اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔

پھر اللہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے دن ایسے دل کے ساتھ آئیں گے جو توبہ کرنے والا اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ یعنی انہوں نے اپنی زندگی میں گناہوں سے توبہ کی، اللہ کی اطاعت کو اپنا شعار بنایا، اور اپنے دل کو دنیا کی محبتوں سے پاک کر کے اللہ کی محبت سے بھر دیا۔ ایسا دل ہی وہ دل ہے جو اللہ کے حضور پیش ہونے کے قابل ہوتا ہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اللہ سے ڈرے، چاہے لوگ اسے دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ اللہ کا خوف ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ ہر گناہ کے بعد توبہ ضروری ہے، کیونکہ توبہ کرنے والا دل ہی اللہ کے قریب ہوتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، اللہ رحمٰن کتنا مہربان ہے کہ وہ ہمیں جنت کی دعوت دے رہا ہے، اور شرط صرف یہ ہے کہ ہم اس سے ڈریں اور اس کی طرف رجوع کریں۔ یہ کوئی مشکل شرط نہیں۔ جب ہم خلوت میں بھی اللہ کو یاد کریں گے، جب ہم گناہ سے بچنے کی کوشش کریں گے، جب ہم اپنے دل کو اللہ کی طرف موڑیں گے، تو اللہ ہمیں وہ انعام دے گا جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، اور کسی دل نے نہیں سوچا۔ آئیے آج ہی اپنے دلوں کو اللہ کی طرف موڑیں، توبہ کریں، اور اس عظیم انعام کے حقدار بنیں۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 31-35 — ق

31وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِينَ غَيۡرَ بَعِيدٍ 
اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی
32هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ 
یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے
33مَّنۡ خَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِ وَجَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِيبٍ 
جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا
34ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَٰمٍۖ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلۡخُلُودِ 
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
35لَهُم مَّا يَشَآءُونَ فِيهَا وَلَدَيۡنَا مَزِيدٌ 
وہاں وہ جو چاہیں گے ان کے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے
ققرآن فہرست
45آیت
مکیRevelation
33آیت

ترجمہ — ق 33

سورہ آیت 33/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں