ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- میراث السموات والأرض: یعنی آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں آخر کار اللہ ہی کی ملکیت ہیں، بندے تو صرف عارضی طور پر ان کے امین ہیں۔
- الفتح: اس سے مراد فتح مکہ ہے، جو ہجرت کے بعد پیش آئی۔
- الحسنى: یہاں اس سے مراد جنت اور بہترین اجر ہے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! تمہیں کون سی چیز روک رہی ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو؟ حالانکہ تم جانتے ہو کہ تمہاری ساری دولت، تمہارے گھر، تمہاری جائیدادیں، سب کچھ ایک دن اللہ ہی کے پاس رہ جائے گا۔ جب تم مر جاؤ گے تو تمہارے ورثاء میں سے کوئی بھی تمہارے ساتھ نہیں جائے گا، اور جو کچھ تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، وہی تمہارے لیے بچے گا۔ آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اللہ ہی کی ہیں، اور وہی ان کا وارث ہے، تم تو صرف عارضی طور پر ان کے نگران ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے درجات کی فضیلت بیان کی ہے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے، جب اسلام کمزور تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، اس وقت اپنے مال خرچ کیے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے بہت بلند ہے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد، جب اسلام غالب آ گیا اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے، اس وقت خرچ کیا اور جہاد کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فتح سے پہلے خرچ کرنے والوں نے اسلام کی ابتدائی مشکلات میں صبر کیا، اپنی جانیں اور مالیں اس وقت قربان کیے جب مسلمانوں کی مدد کرنے والے بہت کم تھے، اور دشمن بہت طاقتور تھا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں خرچ کرنے والوں کا اجر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کو جنت کی خوشخبری دی ہے، کیونکہ دونوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد کیا، بس درجات میں فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے، تمہارے نیتوں کو جانتا ہے، اور ہر ایک کو اس کی نیت اور عمل کے مطابق اجر دے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کوئی نقصان نہیں بلکہ اصل فائدہ ہے۔ جو شخص اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، وہ دراصل اپنے لیے ذخیرہ آخرت جمع کرتا ہے۔ جب ہم مر جائیں گے تو ہمارا مال ہمارے پیچھے رہ جائے گا، لیکن جو ہم نے اللہ کی راہ میں دیا، وہ ہمارے ساتھ جائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو مال دیا ہے، وہ ہماری دائمی ملکیت نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔ اس امانت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ آئیے ہم اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالیں، چاہے وہ تھوڑا ہی ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ اور جو لوگ پہلے خرچ کرتے ہیں، ان کی فضیلت کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں خرچ کرنے والوں کو مایوس ہونا چاہیے، بلکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرے، اللہ تعالیٰ سب کو اجر دے گا۔
📜 آیت 8-12 — حدید
ترجمہ — حدید 10
سورہ حدید آیت 10 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کے رستے…سورہ آیت 10/29 — حدید الحديد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حدید سنیں, حدید ترجمہ, حدید mp3, حدید pdf. آیت 8–12. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








