انعام · 124/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ ۝١٢٤
Wa izaa jaaa`athum Aayatun qaaloo lan nu`mina hatta nu`taa misla maaa ootiya Rusulul laah; Allahu a`almu haisu yaj`alu Risaalatah; sa yuseebul lazeena ajramoo saghaarun `indal laahi wa `azaabun shadeedum bimaa kaanoo yamkuroon
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آیت: معجزہ، دلیل، روشن علامت
  • صغار: ذلت، رسوائی، حقارت
  • مکر: چال بازیاں، فریب، خفیہ تدبیریں

تفسیر:

جب کافروں کے بڑے سرداروں کے پاس کوئی نشانی یا معجزہ آتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دلالت کرتا ہے، تو وہ تکبر اور ضد کی بنا پر کہتے ہیں: "ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں بھی وہ کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔" یعنی وہ نبوت اور رسالت کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی جہالت اور سرکشی کی انتہا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ نبوت کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کی خواہش یا درخواست سے ملتی ہو۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بے جا مطالبے کا جواب دیا: "اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔" یعنی نبوت و رسالت اللہ کا خاص انتخاب ہے، وہی جانتا ہے کہ اس عظیم ذمہ داری کا اہل کون ہے۔ یہ کوئی وراثت یا دولت نہیں جو مال و اولاد سے حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کا انتخاب اپنی حکمت سے کیا ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے چنا کہ وہ اخلاق، صداقت، امانت اور پاکیزگی میں کامل تھے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان مکاروں کو ڈرایا: "عنقریب ان لوگوں پر جو جرم کرتے ہیں، اللہ کے ہاں ذلت آئے گی اور سخت عذاب ہوگا، اس لیے کہ وہ فریب اور چالیں چل رہے تھے۔" یعنی ان کے مکر و فریب کا انجام ذلت اور رسوائی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا اور اپنے تکبر کی وجہ سے ہدایت کو ٹھکرا دیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے فضل و کرم پر بھروسہ رکھیں اور اپنے اعمال کو سنواریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور رسالت کے لیے ایسے ہی لوگوں کو چنتا ہے جو اس کے قابل ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ تکبر اور ضد انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے، جبکہ عاجزی اور انکساری اللہ کی رحمت کا ذریعہ بنتی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو تکبر سے پاک کریں اور اللہ کے دین کو قبول کرنے میں جلدی کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 122-126 — انعام

122أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں
123وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں
124وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ
اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے
125فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے
126وَهَٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
124آیت

ترجمہ — انعام 124

سورہ انعام آیت 124 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو…

سورہ آیت 124/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 122–126. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں