Yaa ma`sharal jinni wal insi alam yaatikum Rusulum minkum yaqussoona `alaikum Aayaatee wa yunziroonakum liqaaa`a Yawmikum haazaa; qaaloo shahidnaa `alaaa anfusinaa wa gharrat humul hayaatud dunyaa wa shahidooo `alaa anfusihim annahum kaanoo kaafireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى گروه جنيان و آدميان، آيا بر شما پيامبرانى از خودتان فرستاده نشده تا آيات مرا برايتان بخوانند و شما را از ديدار چنين روزى بترسانند؟ گويند: ما به زيان خويش گواهى مىدهيم. زندگى دنيايى آنان را بفريفت و به زيان خود گواهى دادند، كه از كافران بودند.
یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ: اے جنوں اور انسانوں کی جماعت!
یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی: میرے احکام اور نشانیاں تمہارے سامنے بیان کرتے تھے۔
وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہَـٰذَا: تمہیں اس دن (قیامت) کے ملنے سے ڈراتے تھے۔
شَہِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا: ہم نے اپنے خلاف گواہی دی۔
وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا: دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنوں اور انسانوں کے اس گروہ سے خطاب کریں گے جنہوں نے رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا اور کفر پر اصرار کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: "اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے جو تم ہی میں سے تھے؟ وہ تمہارے سامنے میرے احکام اور واضح نشانیاں بیان کرتے تھے، اور تمہیں اس عظیم دن (قیامت) کے ملنے سے ڈراتے تھے؟"
اس پر وہ مجرم لوگ جواب دیں گے: "ہاں! ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول آئے تھے، انہوں نے ہمیں تیرے احکام پہنچائے اور اس دن سے ڈرایا، لیکن ہم نے انہیں جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی۔"
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ انہوں نے دنیا کی چند روزہ لذتوں اور آرائشوں کو دیکھ کر آخرت کو بھلا دیا، اور گمان کیا کہ یہی سب کچھ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نفسوں کے خلاف یہ گواہی دی کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کے منکر تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا جب تک اس میں رسول یا نبی نہ بھیجا، اور حجت قائم نہ کی۔ یہ اللہ کا کامل عدل اور رحمت ہے کہ وہ بغیر تنبیہ کے کسی کو سزا نہیں دیتا۔ آج ہمارے پاس قرآن اور سنت موجود ہے، جو ہمارے لیے اللہ کی طرف سے روشن دلیل ہے۔ اگر ہم انہیں چھوڑ کر دنیا کی چمک دمک میں گم ہو جائیں، تو کل قیامت کے دن ہمارا بھی یہی حال ہوگا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس زندگی میں اللہ کے احکام پر عمل کریں، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، اور اس دن کی تیاری کریں جب کوئی معذرت قبول نہ ہوگی۔ اللہ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچائے اور آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے
اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے
(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔