انعام · 32/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝٣٢
Wa mal hayaatud dunyaaa illaa la`ibunw wa lahwunw wa lad Daarul Aakhiratu kahyrul lillazeena yattaqoon; afalaa ta`qiloon
📖 اردو ترجمہ
اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَعِبٌ: کھیل، تفریح، وہ کام جس میں کوئی حقیقی نفع نہ ہو۔
  • لَهْوٌ: غفلت، دل بہلانے والی چیز، وہ مشغلہ جو انسان کو آخرت سے غافل کر دے۔
  • الدَّارُ الْآخِرَةُ: آخرت کا گھر، یعنی جنت اور اس کا ابدی اجر۔
  • يَتَّقُونَ: پرہیزگار، وہ لوگ جو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے اس کے احکام پر عمل کریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی حقیقت کو واضح فرما دیا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے۔ جیسے بچے کھیل میں مشغول ہوتے ہیں اور اس میں کامیابی یا ناکامی کا کوئی حقیقی انجام نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا کی زندگی بھی ایک عارضی مشغلہ ہے جو انسان کو غفلت میں ڈال دیتی ہے۔ جو لوگ صرف دنیا کی ظاہری چمک دمک پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، وہ اس کھیل میں کھو جاتے ہیں اور آخرت کی تیاری بھول جاتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا گھر یعنی جنت اور اس کی دائمی نعمتیں ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ یہ تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دنیا کی لغویت سے نکال کر آخرت کی سنجیدہ تیاری کی طرف لے جاتی ہے۔ متقی لوگ وہ ہیں جو اللہ کے حکموں پر عمل کرتے ہیں، اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں، اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ انہیں کے لیے آخرت کی کامیابی ہے، کیونکہ وہ اس کھیل میں نہیں کھوتے بلکہ اصل منزل کی طرف بڑھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس کے بعد فرماتا ہے: "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" یہ ایک پُرمحبت سوال ہے جو انسان کی فطرت کو جھنجھوڑتا ہے۔ عقل مند انسان وہی ہے جو فانی چیز کو باقی چیز پر ترجیح نہ دے۔ دنیا کی لذتیں چند دنوں کی ہیں، جبکہ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ اے بھائیو! کیا یہ عقل کا تقاضا نہیں کہ ہم اس چیز کی تیاری کریں جو ہمیشہ رہے گی، نہ کہ اس چیز پر فریفتہ ہوں جو ختم ہونے والی ہے؟

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو مکمل طور پر ترک نہیں کرنا چاہیے، بلکہ دنیا کو آخرت کی کھیتی بنانا چاہیے۔ جو شخص دنیا کو اللہ کی اطاعت اور نیک اعمال کے لیے استعمال کرے، وہی حقیقی کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ غفلت کا سبب۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 30-34 — انعام

30وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِالْحَقِّ ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
31قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
32وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں
33قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں
34وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
32آیت

ترجمہ — انعام 32

سورہ انعام آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔…

سورہ آیت 32/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں