ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَيَحْزُنُكَ: آپ کو غمگین کرتا ہے۔
لَا يُكَذِّبُونَكَ: وہ آپ کو جھٹلاتے نہیں ہیں (یعنی دل میں آپ کے سچے ہونے کو جانتے ہیں)۔
يَجْحَدُونَ: وہ انکار کرتے ہیں (جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہیں)۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کے قوم کے لوگ جو کچھ کہتے ہیں، وہ آپ کو شدید رنج اور غم میں ڈالتا ہے۔ آپ کا دل ان کی تکذیب اور طعنوں سے بوجھل ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حقیقت میں یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے نہیں ہیں۔ ان کے دلوں میں آپ کی سچائی اور امانت کا پورا یقین ہے، وہ آپ کو "صادق" اور "امین" کے لقب سے پہچانتے ہیں۔ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں، وہ حق ہے۔
لیکن ان کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ آپ کی صداقت سے ناواقف ہیں، بلکہ ان کا اصل مسئلہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے۔ وہ اللہ کی واضح نشانیوں اور معجزوں کو دیکھ کر بھی جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر تکبر اور ضد ہے۔ وہ حق کو پہچان کر بھی اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ ان کے مفادات اور بڑائی کا مسئلہ اس میں رکاوٹ بنتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے داعی کو صبر اور ثبات قدمی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنا ہی طعن و تشنیع کریں۔ جب ہمارے دل میں یہ یقین ہو کہ ہم حق پر ہیں، تو پھر لوگوں کے ردعمل سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے جذبات سے واقف ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے۔ یاد رکھیں، بہت سے لوگ حق کو جانتے ہوئے بھی محض ضد، تکبر یا دنیاوی مفادات کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے۔ ہمارا کام صرف حق پہنچا دینا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)
اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔