انعام · 31/165
ترجمہ تلفظ — انعام
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ ۝٣١
Qad khasiral lazeena kazzaboo biliqaaa`il laahi hattaaa izaa jaaa`at humus Saa`atu baghtan qaaloo yaa hasratanaa `alaa maa farratnaa feehaa wa hum yahmiloona awzaarahum `alaa zuhoorihim; alaa saaa`a ma yaziroon
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بِلِقَاءِ اللَّهِ: اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین نہ کرنا، یعنی آخرت اور حساب و کتاب کا انکار۔
  • بَغْتَةً: اچانک، جس کا کوئی مقدمہ یا انتباہ نہ ہو۔
  • یَا حَسْرَتَنَا: افسوس! ہماری حسرت و ندامت۔
  • فَرَّطْنَا: ہم نے کوتاہی کی، حق کو چھوڑ دیا۔
  • أَوْزَارَهُمْ: اپنے گناہوں کے بوجھ۔
  • سَاءَ مَا یَزِرُونَ: کتنا برا ہے وہ بوجھ جو وہ اٹھا رہے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے نقصان کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ سے ملاقات (یعنی قیامت، حشر اور آخرت) کو جھٹلایا۔ یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اس یقین سے محروم رہے کہ ایک دن انہیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اس لیے انہوں نے اپنی زندگیاں غفلت، لاپروائی اور گناہوں میں گنوا دیں۔ پھر جب اچانک قیامت آئی، جس کا انہیں کوئی گمان بھی نہ تھا، تو وہ شدید پشیمانی اور ندامت کے عالم میں چلائے: "ہائے افسوس! ہم نے اپنی زندگی میں کتنی کوتاہی کی، ہم نے اللہ کے حقوق اور آخرت کی تیاری میں کتنا نقصان کیا!" لیکن یہ پشیمانی اس وقت کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ اس وقت وہ اپنے گناہوں کے بھاری بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے، اور کیا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اٹھا رہے ہیں! یہ ان کے اعمالِ بد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دنیا میں کمائے تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ آخرت کا یقین ہی وہ چیز ہے جو انسان کو صحیح راستے پر چلاتی ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اسے ایک دن اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہے، وہ کبھی گناہوں میں غرق نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو غفلت میں نہ گنوائیں، بلکہ ہر لمحہ اپنے رب کی اطاعت اور نیک اعمال میں گزاریں۔ یاد رکھیں، قیامت اچانک آئے گی، اور اس دن کی پشیمانی کسی کے کام نہ آئے گی۔ آج ہم جس گناہ کو معمولی سمجھتے ہیں، وہی کل ہمارے لیے بھاری بوجھ بن جائے گا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں کہ اس دن ہمیں حسرت نہ کرنی پڑے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 29-33 — انعام

29وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے
30وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِالْحَقِّ ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
31قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
32وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں
33قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
31آیت

ترجمہ — انعام 31

سورہ انعام آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ…

سورہ آیت 31/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں