Qad khasiral lazeena kazzaboo biliqaaa`il laahi hattaaa izaa jaaa`at humus Saa`atu baghtan qaaloo yaa hasratanaa `alaa maa farratnaa feehaa wa hum yahmiloona awzaarahum `alaa zuhoorihim; alaa saaa`a ma yaziroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
زيان كردند آنهايى كه ديدار با خدا را دروغ پنداشتند. و چون قيامت به ناگهان فرا رسد، گويند: اى حسرتا بر ما به خاطر تقصيرى كه كرديم. اينان بار گناهانشان را بر پشت مىكشند. هان، چه بد بارى را بر دوش مىكشند.
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِلِقَاءِ اللَّهِ: اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا یقین نہ کرنا، یعنی آخرت اور حساب و کتاب کا انکار۔
بَغْتَةً: اچانک، جس کا کوئی مقدمہ یا انتباہ نہ ہو۔
یَا حَسْرَتَنَا: افسوس! ہماری حسرت و ندامت۔
فَرَّطْنَا: ہم نے کوتاہی کی، حق کو چھوڑ دیا۔
أَوْزَارَهُمْ: اپنے گناہوں کے بوجھ۔
سَاءَ مَا یَزِرُونَ: کتنا برا ہے وہ بوجھ جو وہ اٹھا رہے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے نقصان کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ سے ملاقات (یعنی قیامت، حشر اور آخرت) کو جھٹلایا۔ یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اس یقین سے محروم رہے کہ ایک دن انہیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اس لیے انہوں نے اپنی زندگیاں غفلت، لاپروائی اور گناہوں میں گنوا دیں۔ پھر جب اچانک قیامت آئی، جس کا انہیں کوئی گمان بھی نہ تھا، تو وہ شدید پشیمانی اور ندامت کے عالم میں چلائے: "ہائے افسوس! ہم نے اپنی زندگی میں کتنی کوتاہی کی، ہم نے اللہ کے حقوق اور آخرت کی تیاری میں کتنا نقصان کیا!" لیکن یہ پشیمانی اس وقت کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ اس وقت وہ اپنے گناہوں کے بھاری بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے، اور کیا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اٹھا رہے ہیں! یہ ان کے اعمالِ بد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے دنیا میں کمائے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ آخرت کا یقین ہی وہ چیز ہے جو انسان کو صحیح راستے پر چلاتی ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اسے ایک دن اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہے، وہ کبھی گناہوں میں غرق نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو غفلت میں نہ گنوائیں، بلکہ ہر لمحہ اپنے رب کی اطاعت اور نیک اعمال میں گزاریں۔ یاد رکھیں، قیامت اچانک آئے گی، اور اس دن کی پشیمانی کسی کے کام نہ آئے گی۔ آج ہم جس گناہ کو معمولی سمجھتے ہیں، وہی کل ہمارے لیے بھاری بوجھ بن جائے گا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں کہ اس دن ہمیں حسرت نہ کرنی پڑے۔ آمین۔
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔