Qul laaa aqoolu lakum `indee khazaaa`inul laahi wa laaa a`lamul ghaiba wa laaa aqoolu lakum innee malakun in attabi`u illaa maa yoohaaa ilaiy; qul hal yastawil a`maa walbaseer; afalaa tatafakkaroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: به شما نمىگويم كه خزاين خدا نزد من است. و علم غيب هم نمىدانم. و نمىگويم كه فرشتهاى هستم. تنها از چيزى پيروى مىكنم كه بر من وحى شده است. بگو: آيا نابينا و بينا يكسانند؟ چرا نمىانديشيد؟
کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
خَزَائِنُ اللَّهِ: اللہ کے خزانے، یعنی رزق اور قدرت کے ذخائر۔
الْغَیْبَ: وہ پوشیدہ چیزیں جو علمِ بشری سے باہر ہیں۔
مَلَكٌ: فرشتہ۔
أَتَّبِعُ: میں پیروی کرتا ہوں۔
الْأَعْمَىٰ: اندھا، یعنی کافر جو حق سے نابینا ہے۔
الْبَصِیرُ: بینا، یعنی مومن جو حق کو دیکھتا اور پہچانتا ہے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرما دیں جو آپ سے معجزات اور دنیاوی خزانوں کے مطالبے کرتے ہیں کہ میں تم سے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں کہ جنہیں میں اپنی مرضی سے خرچ کروں، اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف ایک بشر ہوں، اللہ کا رسول، جو اس کی وحی کا امین ہوں۔ میں صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو اللہ میری طرف وحی بھیجتا ہے، اور جو احکام مجھے دیے جاتے ہیں انہیں تم تک پہنچاتا ہوں۔ میں اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرسکتا، نہ اپنے لیے نفع کا مالک ہوں نہ نقصان کا، بلکہ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے۔
پھر فرمائیے: کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! اندھا وہ ہے جو اللہ کی آیات سے اندھا ہے اور حق کو دیکھ کر بھی نہیں پہچانتا، اور بینا وہ ہے جو ایمان کی روشنی سے حق کو دیکھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ کیا تم لوگ غور و فکر نہیں کرتے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے کہ اندھے اور بینا میں فرق واضح ہو؟ اگر تم غور کرو تو سمجھ جاؤ گے کہ حق اور باطل، ایمان اور کفر کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت ان کے دعووں میں نہیں بلکہ ان کی صداقت اور امانت میں ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی اپنے آپ کو غیر معمولی حیثیت نہیں دی، بلکہ ہمیشہ اپنی بشریت کا اعتراف کیا اور صرف اللہ کی وحی کی پیروی کی۔ یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں سچائی اور عاجزی اختیار کریں، اور اللہ کے دین کو اسی طرح پیش کریں جیسے نبی ﷺ نے پیش کیا۔ نیز یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی عقل سے کام لیں، غور و فکر کریں، اور حق کو باطل سے ممیز کریں۔ جو شخص آنکھوں سے دیکھتا ہے وہ راستہ پاتا ہے، اور جو دل کی آنکھ سے اندھا ہے وہ گمراہی میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت عطا فرمائے اور ہمیں اندھوں کی صف میں شامل نہ کرے۔ آمین۔
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوشخبری سنانے اور ڈرانے کو پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے
کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں
اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔