Wa huwal qaahiru fawqa `ibaadihee wa yursilu `alaikum hafazatan hattaaa izaa jaaa`a ahadakumul mawtu tawaffathu rusulunaa wa hum laa yufarritoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اوست قاهرى فراتر از بندگانش. نگهبانانى بر شما مىگمارد، تا چون يكى از شما را مرگ فرا رسد فرستادگان ما بى هيچ كوتاهى و گذشتى جان او بگيرند.
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْقَاهِرُ: غالب، سب سے اوپر اور بالکل مسلط ہونے والا۔
فَوْقَ عِبَادِهِ: اپنے بندوں پر مکمل اقتدار اور غلبہ رکھنے والا۔
حَفَظَةً: نگہبان فرشتے جو اعمال لکھتے اور محفوظ کرتے ہیں۔
تَوَفَّتْهُ: اس کی روح قبض کر لیتی ہے۔
رُسُلُنَا: ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے، یعنی ملک الموت اور اس کے مددگار۔
لَا يُفَرِّطُونَ: کوتاہی نہیں کرتے، ذرا بھی تأخیر یا کسر نہیں کرتے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو اپنے بندوں پر مکمل غالب اور قاہر ہے۔ اس کا غلبہ اور فوقیت ہر لحاظ سے کامل ہے، جو اس کے جلال و عظمت کے شایانِ شان ہے۔ اس کی قدرت کے آگے ہر چیز سر تسلیم خم ہے، کوئی بھی اس کے حکم سے باہر نہیں۔ وہ اپنے بندوں پر نگہبان فرشتے مقرر کرتا ہے جو دن رات ان کے اعمال کو لکھتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ یہ فرشتے ہر شخص کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے ہر قول و فعل کو ریکارڈ کرتے ہیں۔
پھر جب کسی بندے کی موت کا وقت آتا ہے، تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے، یعنی ملک الموت اور اس کے معاون، اس کی روح قبض کر لیتے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے۔ نہ وہ کسی کی روح جلدی قبض کرتے ہیں، نہ دیر سے، بلکہ بالکل مقررہ وقت پر، جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت اور سبق ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہر وقت ہم پر غالب ہے اور اس کے فرشتے ہمارے اعمال لکھ رہے ہیں، تو ہمیں اپنے ہر عمل پر نظر رکھنی چاہیے۔ یہ حقیقت ہمیں گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی طرف راغب ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ موت کا وقت مقرر ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں، لیکن اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ہم اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے۔ آئیے ہم اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں، کیونکہ وہی ہمارا خالق، مالک اور حاکم ہے، اور اسی کی رحمت ہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عبادت کی توفیق دے اور ہمارے اعمال کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے
کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔