ترجمہ — Tafsir
اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
معانی الفاظ:
- أَيْمَانَهُمْ: ان کی قسموں کو (جھوٹی قسمیں جو وہ کھاتے تھے)
- جُنَّةً: ڈھال، ڈھانپنے والی چیز، بچاؤ کا ذریعہ
- فَصَدُّوا: پس انہوں نے روکا
- سَبِيلِ اللَّهِ: اللہ کا راستہ (ایمان، اسلام اور جہاد)
- سَاءَ: بہت برا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں کے اُس حیلے اور چال کا پردہ فاش کر رہے ہیں جو وہ اپنے جھوٹے ایمان کے دعوے سے کرتے تھے۔ منافقین اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بناتے تھے، یعنی جب بھی ان پر اسلام کی سچائی واضح ہوتی یا مسلمانوں کی طرف سے کوئی مؤاخذہ ہوتا، تو وہ فوراً قسمیں کھا کر کہتے: "ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم مسلمان ہیں، ہم تمہارے خلاف نہیں ہیں۔" یہ قسمیں ان کے لیے اس طرح تھیں جیسے کوئی جنگ میں ڈھال استعمال کرے — وہ ان قسموں کے ذریعے اپنی جانیں اور مال بچا لیتے تھے، تاکہ مسلمان انہیں قتل نہ کریں اور نہ ان کے مال ضبط کریں۔
یہ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ انہوں نے اپنے اس دھوکے سے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا۔ وہ مسلمانوں کے درمیان شکوک و شبہات پھیلاتے، افواہیں اڑاتے، اور کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں کوئی صداقت نہیں، اس لیے لوگ ایمان لانے سے رک جاتے۔ انہوں نے اپنے نفاق اور جھوٹی قسموں کے ذریعے نہ صرف خود راہِ حق سے محروم رہے بلکہ دوسروں کو بھی محروم کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "إنهم ساء ما كانوا يعملون" یعنی یقیناً وہ بہت برا کام کر رہے تھے۔ ان کا یہ نفاق، یہ جھوٹی قسمیں، یہ دھوکہ، یہ لوگوں کو راہِ حق سے روکنا — یہ سب انتہائی قبیح اور قابلِ نفرت اعمال ہیں۔ ان کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے ظاہر میں ایمان کا اظہار کیا لیکن باطن میں کفر چھپائے رکھا، چنانچہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، اور وہ اب وہ سمجھ نہیں پاتے جو ان کے لیے بہتر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے سامنے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔ منافقین چاہے جتنی بھی قسمیں کھا لیں، چاہے جتنے بھی دھوکے دیں، اللہ ان کے دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی دعوے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم سچے مسلمان ہیں۔ جھوٹی قسمیں، دھوکہ، اور منافقت — یہ سب وہ راستے ہیں جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں سچائی اور صداقت کا راستہ دکھایا ہے۔ سچا مسلمان وہ ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہو، جو اپنے قول اور فعل میں مطابقت رکھتا ہو۔ آئیے ہم منافقت کے اس گندے راستے سے بچیں اور اپنے دلوں کو ایمان کی صداقت سے روشن کریں، تاکہ اللہ کی نظر میں ہم سچے اور مخلص بندے شمار ہوں۔ اللہ ہمیں نفاق سے بچائے اور سچائی پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 1-4 — منافقون
ترجمہ — منافقون 2
سورہ آیت 2/11 — منافقون المنافقون (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: منافقون سنیں, منافقون ترجمہ, منافقون mp3, منافقون pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








