Wa lammaa jaaa`a Moosa limeeqaatinaa wa kallamahoo Rabbuhoo qaala Rabbi arineee anzur ilaik; qaala lan taraanee wa laakininzur ilal jabali fa inistaqarra makaanahoo faswfa taraanee; falammaa tajallaa Rabbuhoo liljabali ja`alahoo dakkanw wa kharra Moosaa sa`iqaa; falammaaa afaaqa qaala Subhaanaka tubtu ilaika wa ana awwalul mu`mineen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون موسى به ميعادگاه ما آمد و پروردگارش با او سخن گفت، گفت: اى پروردگار من، بنماى، تا در تو نظر كنم. گفت: هرگز مرا نخواهى ديد. به آن كوه بنگر، اگر بر جاى خود قرار يافت، تو نيز مرا خواهى ديد. چون پروردگارش بر كوه تجلى كرد، كوه را خرد كرد و موسى بيهوش بيفتاد. چون به هوش آمد گفت: تو منزهى، به تو بازگشتم و من نخستين مؤمنانم.
مِیقَاتِنَا: ہمارے مقرر کردہ وقت میں، یعنی چالیس راتوں کی تکمیل پر۔
أَرِنِي: مجھے دکھا، یعنی اپنا دیدار عطا فرما۔
لَن تَرَانِي: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے (دنیا میں)۔
تَجَلَّى: اپنا نور ظاہر کیا۔
دَكًّا: برابر کر دیا، ریزہ ریزہ کر کے زمین پر بٹھا دیا۔
صَعِقًا: بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
أَفَاقَ: ہوش میں آیا۔
سُبْحَانَكَ: تو پاک ہے ہر عیب اور کمی سے۔
تفسیر:
جب موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہوئے، جو چالیس راتوں کی مدت تھی، اور ان کے رب نے ان سے براہِ راست کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، تو اس عظیم سعادت اور قربِ الٰہی کے باعث ان کے دل میں اپنے محبوب رب کا دیدار کرنے کی شدید تمنا پیدا ہوئی۔ انہوں نے ادب کے ساتھ عرض کیا: "اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار عطا فرما تاکہ میں تیری طرف نظر کروں۔"
اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: "تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے" کیونکہ دنیا میں کسی بشر کی طاقت نہیں کہ وہ اللہ کا دیدار کر سکے۔ یہ دنیا کی آزمائش اور امتحان کی جگہ ہے، اور دیدارِ الٰہی آخرت کی عظیم نعمت ہے جو اہلِ ایمان کو جنت میں نصیب ہوگی۔ پھر اللہ نے موسیٰ کو تسلی اور اطمینان دینے کے لیے فرمایا: "لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھو جو تم سے زیادہ مضبوط اور پختہ ہے۔ اگر وہ میرے تجلی کے وقت اپنی جگہ پر قائم رہ سکا تو تم بھی میرا دیدار کر سکو گے، ورنہ یہ جان لو کہ یہ دنیا میں ممکن نہیں۔"
چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا ایک ذرہ برابر جلوہ پہاڑ پر ڈالا تو وہ عظیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر زمین کے برابر ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام پر ہیبت طاری ہوئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو فوراً اپنے رب کی پاکی بیان کی اور عرض کیا: "اے میرے رب! تو پاک ہے ہر اس چیز سے جو تیری شان کے لائق نہیں۔ میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اس سوال سے جو میں نے کیا تھا، اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں کہ تجھے دنیا میں نہیں دیکھا جا سکتا۔"
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور قرب حاصل کرنے کی تڑپ ہی اصل ایمان کی نشانی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے محبت کی وجہ سے دیدار کا سوال کیا، لیکن جب اللہ نے حد مقرر کر دی تو انہوں نے فوراً توبہ کر لی اور تسلیم کر لیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ سے محبت کریں، اس کے کلام کو پڑھیں اور سمجھیں، اور اس کی عبادت میں لذت حاصل کریں۔ یاد رکھیں! اللہ کا دیدار اہلِ جنت کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، اور اس کا حصول ہمارے ایمان اور عمل صالح پر منحصر ہے۔ آئیے ہم اپنے رب سے ایسی محبت کریں جو ہمیں اس کی اطاعت کی طرف لے جائے، اور اس کی رحمت سے امید رکھیں کہ وہ ہمیں بھی اپنے دیدار کی سعادت سے نوازے گا۔
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔