(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
درباره قيامت از تو مىپرسند كه چه وقت فرا مىرسد. بگو: علم آن نزد پروردگار من است. تنها اوست كه چون زمانش فرا رسد آشكارش مىسازد. فرارسيدن آن بر آسمانيان و زمينيان پوشيده است، جز به ناگهان بر شما نيايد. چنان از تو مىپرسند كه گويى تو از آن آگاهى. بگو: علم آن نزد خداست ولى بيشتر مردم نمىدانند.
ثَقُلَتْ: بھاری ہو گئی، یعنی مخفی اور پوشیدہ ہو گئی۔
بَغْتَةً: اچانک، بے خبری میں۔
حَفِیٌّ عَنْهَا: اس کے بارے میں پوچھنے والا، اس کا علم رکھنے والا۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! آپ سے یہ لوگ قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی؟ اس کا وقت کیا ہے؟ یہ سوال دراصل ان کے تعصب اور ضد کی وجہ سے ہے، نہ کہ جاننے کی خاطر۔ آپ انہیں صاف جواب دیں کہ قیامت کا علم صرف اور صرف میرے رب کے پاس ہے۔ اسے اس کے مقررہ وقت پر ظاہر کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ یہ علم آسمانوں اور زمین والوں پر بھاری اور پوشیدہ ہے، یعنی فرشتے، انبیاء اور تمام مخلوقات میں سے کسی کو بھی اس کا علم نہیں۔ قیامت تمہارے پاس اچانک آئے گی، جب تمہیں ذرا بھی خبر نہ ہوگی۔
یہ لوگ آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے آپ اس کے بارے میں بہت زیادہ جاننے والے ہوں اور آپ نے اس کے علم کی خاطر بہت اصرار کیا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو بھی اس کا علم نہیں دیا گیا۔ آپ انہیں بتا دیں کہ قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے کہ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی بشر بھی اسے جان سکتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ہماری عقل اور علم کی رسائی صرف اسی حد تک ہے جتنا اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ قیامت کا علم اللہ کی مخصوص غیب کی کنجیوں میں سے ایک ہے، جسے اس نے اپنے سوا کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ قیامت کے وقت کے بارے میں فضول بحثوں میں نہ پڑیں، بلکہ اس کی تیاری کریں۔ قیامت اچانک آئے گی، اس لیے ہمیں ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اپنے اعمال سنوار لیں، اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے روشن کریں، اور اس دن کے لیے زادِ راہ جمع کریں جب کوئی مال اور اولاد کام نہ آئے گی، صرف ایمان اور نیک اعمال کام آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔