اعراف · 187/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۝١٨٧
Yas`aloonaka `anis Saa`ati aiyaana mursaahaa qul innamaa `ilmuhaa `inda Rabbee laa yujallaeehaa liwaqtihaaa illaa Hoo; saqulat fis samaawaati wal ard; laa taateekum illaa baghtah; yas`aloonaka ka annaka hafiyyun `anhaa qul innamaa `ilmuhaa `indal laahi wa laakinna aksaran naasi laa ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الساعَة: قیامت کا دن۔
  • أَيَّانَ: کب، کس وقت۔
  • مُرْسَاهَا: اس کا قیام، اس کا وقوع۔
  • لَا يُجَلِّيهَا: اسے ظاہر نہیں کرے گا۔
  • ثَقُلَتْ: بھاری ہو گئی، یعنی مخفی اور پوشیدہ ہو گئی۔
  • بَغْتَةً: اچانک، بے خبری میں۔
  • حَفِیٌّ عَنْهَا: اس کے بارے میں پوچھنے والا، اس کا علم رکھنے والا۔

تفسیر:

اے محبوب رسول! آپ سے یہ لوگ قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی؟ اس کا وقت کیا ہے؟ یہ سوال دراصل ان کے تعصب اور ضد کی وجہ سے ہے، نہ کہ جاننے کی خاطر۔ آپ انہیں صاف جواب دیں کہ قیامت کا علم صرف اور صرف میرے رب کے پاس ہے۔ اسے اس کے مقررہ وقت پر ظاہر کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ یہ علم آسمانوں اور زمین والوں پر بھاری اور پوشیدہ ہے، یعنی فرشتے، انبیاء اور تمام مخلوقات میں سے کسی کو بھی اس کا علم نہیں۔ قیامت تمہارے پاس اچانک آئے گی، جب تمہیں ذرا بھی خبر نہ ہوگی۔

یہ لوگ آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے آپ اس کے بارے میں بہت زیادہ جاننے والے ہوں اور آپ نے اس کے علم کی خاطر بہت اصرار کیا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو بھی اس کا علم نہیں دیا گیا۔ آپ انہیں بتا دیں کہ قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے کہ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی بشر بھی اسے جان سکتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ہماری عقل اور علم کی رسائی صرف اسی حد تک ہے جتنا اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ قیامت کا علم اللہ کی مخصوص غیب کی کنجیوں میں سے ایک ہے، جسے اس نے اپنے سوا کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ قیامت کے وقت کے بارے میں فضول بحثوں میں نہ پڑیں، بلکہ اس کی تیاری کریں۔ قیامت اچانک آئے گی، اس لیے ہمیں ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اپنے اعمال سنوار لیں، اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے روشن کریں، اور اس دن کے لیے زادِ راہ جمع کریں جب کوئی مال اور اولاد کام نہ آئے گی، صرف ایمان اور نیک اعمال کام آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 185-189 — اعراف

185أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
186مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں
187يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
188قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
189۞ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
187آیت

ترجمہ — اعراف 187

سورہ اعراف آیت 187 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں…

سورہ آیت 187/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 185–189. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Wednesday, August 19, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں