ترجمہ — Tafsir
يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
لغوی معانی:
- لَا يَفْتِنَنَّكُمُ: وہ تمہیں ہرگز فتنے میں نہ ڈالے، یعنی تمہیں گمراہ نہ کرے۔
- يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا: وہ ان دونوں سے ان کے لباس اتار رہا تھا۔
- سَوْآتِهِمَا: ان کی شرم گاہیں (عورتیں)۔
- قَبِيلُهُ: اس کی اولاد اور اس کے مددگار (شیاطین کا گروہ)۔
- أَوْلِيَاءَ: دوست، ساتھی اور مددگار۔
تفسیر:
اے اولادِ آدم! شیطان تمہیں کبھی فتنے میں نہ ڈالے اور نہ تمہیں دھوکہ دے، جیسا کہ اس نے تمہارے والدین (آدم اور حوا علیہما السلام) کو دھوکہ دیا تھا۔ اس نے انہیں جنت سے اس طرح نکلوایا کہ ان کے لباس اتار دیے تاکہ ان کی شرم گاہیں انہیں دکھا سکے۔ یہ شیطان کا پرانا حربہ ہے — وہ انسان کو لباسِ تقویٰ سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے اور لباسِ ظاہری سے بھی، تاکہ انسان بے پردہ اور بے حیا ہو جائے اور اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہو۔
شیطان تمہیں دیکھتا ہے، وہ اور اس کا پورا قبیلہ (اس کی اولاد اور اس کے مددگار) تمہیں اس طرح دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تم پر اس طرح حملہ آور ہوتے ہیں جس طرح تمہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ تم ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگو اور شیطان کے وسوسوں سے بچو۔
یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان لوگوں کا ساتھی اور دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے، جو اللہ کو نہیں مانتے، اس کے رسولوں کی تصدیق نہیں کرتے اور اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے۔ یہ لوگ خود اپنے اختیار سے شیطان کو اپنا ولی بناتے ہیں، اس لیے اللہ انہیں شیطان کے حوالے کر دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت ہمیں اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان سے خبردار کر رہے ہیں۔ شیطان نے آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا تھا، اور آج وہ ہمیں جنتِ حقیقی (اللہ کی رضا اور قربت) سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اللہ نے ہمیں شیطان کے اس دشمنی بھرے رویے سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ ہم اس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اللہ کی پناہ مانگیں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور نیک اعمال پر عمل کریں۔ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، شیطان ان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ شیطان کا تسلط صرف ان لوگوں پر ہوگا جو اسے اپنا دوست بنائیں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کو اپنا دوست اور مددگار بنائیں، اور شیطان کے بجائے اللہ کی اطاعت کریں — یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 25-29 — اعراف
ترجمہ — اعراف 27
سورہ اعراف آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے…سورہ آیت 27/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








