اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون كار زشتى كنند، گويند: پدران خود را نيز چنين يافتهايم و خدا ما را بدان فرمان داده است. بگو: خدا به زشتكارى فرمان نمىدهد. چرا چيزهايى به خدا نسبت مىدهيد كه نمىدانيد؟
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَاحِشَةً: انتہائی برا کام، بے حیائی کا فعل، جیسے شرک، طواف کے وقت برہنگی، اور دیگر قبیح حرکات۔
وَجَدْنَا عَلَیْہَا آبَاءَنَا: ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا۔
أَمَرَنَا بِہَا: اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔
لَا یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ: اللہ کبھی بے حیائی اور برے کاموں کا حکم نہیں دیتا۔
تفسیر:
جب یہ مشرک لوگ کوئی انتہائی برا کام کرتے تھے—جیسے بتوں کی عبادت، طوافِ کعبہ میں ننگے ہو کر چکر لگانا، یا دیگر بے حیائی کے افعال—تو وہ اپنے اس قبیح فعل کو جائز ٹھہرانے کے لیے دو بہانے بناتے تھے: پہلا یہ کہ "ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طرح کرتے پایا ہے"، اور دوسرا یہ کہ "اللہ نے خود ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔" گویا وہ اپنی جاہلانہ روایات کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اسے دین کا حصہ بنا دیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے اس جھوٹے دعوے کا سختی سے رد کریں: "کہہ دیجیے کہ اللہ کبھی بے حیائی اور برے کاموں کا حکم نہیں دیتا۔" یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ اللہ جو حکیم اور رحیم ہے، وہ صرف بھلائی، پاکیزگی اور عدل کا حکم دیتا ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں کو گناہ اور فحش کا حکم دے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر سخت تنبیہ فرماتا ہے: "کیا تم اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جو تمہیں معلوم ہی نہیں؟" یہ ایک سخت ملامت اور ڈانٹ ہے، جو ان کے اس جھوٹ اور افتراء کو بے نقاب کرتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ دین میں کسی بھی چیز کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے پہلے ہمیں یقینی علم ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت میں واضح احکام دے رکھے ہیں، اور ہر وہ بات جو ان کے خلاف ہو، وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاشرے کی ان رسموں اور رواجوں سے بچیں جو اسلام کے خلاف ہیں، چاہے وہ ہمارے آباء و اجداد سے چلی آ رہی ہوں۔ اللہ کا دین آسان، پاکیزہ اور فطرت کے مطابق ہے، اور وہ کبھی کسی برے کام کا حکم نہیں دیتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں، اور کسی بھی جھوٹی بات کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے بچیں، کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ ہمیں سچائی اور پاکیزگی پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔