أَصْحَابُ النَّارِ: دوزخ والے، جہنم میں رہنے والے۔
خَالِدُونَ: ہمیشہ رہنے والے، دائمی طور پر قیام پذیر۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات اور نشانیوں کو جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا۔ یعنی جب اللہ کے رسول اور ان کی لائی ہوئی کتابیں ان کے پاس آئیں تو انہوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کیا، نہ صرف یہ کہ انہوں نے جھٹلایا بلکہ اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے ان سے منہ موڑ لیا۔ انہوں نے حق کو سن کر بھی اسے ماننے سے اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور اتباعِ حق سے انکار کیا۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لیے عذاب کا راستہ خود منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی لوگ دوزخ والے ہیں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لیے نہ کوئی نجات ہے، نہ کوئی خلاصی۔ یہ عذاب ان کے اس جرم کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی واضح نشانیوں کو دیکھ کر بھی انکار کیا اور اپنے تکبر کی وجہ سے حق کو قبول نہ کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی آیات کو قبول کرنے میں تکبر اور غرور سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انسان جب اپنے علم، مال، مرتبے یا خاندان پر گھمنڈ کرتا ہے تو وہ حق کو قبول نہیں کر پاتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، کیونکہ اللہ کی رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو حق کو سن کر اسے قبول کر لیں۔ یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ تکبر کا انجام جہنم ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ جو لوگ اپنے تکبر کو چھوڑ کر ایمان لے آئیں، ان کے لیے اللہ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو حق کے لیے نرم کریں، کیونکہ جنت کا راستہ عاجزی اور اتباعِ حق سے ہو کر جاتا ہے، نہ کہ غرور اور انکار سے۔
اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔