Wazkkurooo iz ja`alakum khulafaaa`a mim ba`di `Aadinw wa bawwa akum fil ardi tattakhizoona min suhoolihaa qusooranw wa tanhitoonal jibaala buyootan fazkurooo aalaaa`al laahi wa laa ta`saw fil ardi mufsideen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به ياد آريد آن زمان را كه شما را جانشينان قوم عاد كرد و در اين زمين جاى داد تا بر روى خاكش قصرها برافرازيد و در كوهستانهايش خانههايى بكنيد. نعمتهاى خدا را ياد كنيد و در زمين تبهكارى و فساد مكنيد.
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
خُلَفَاءَ: جانشین اور نائب۔
بَوَّأَكُمْ: تمہیں جگہ دی، بسایا اور ٹھہرایا۔
سُهُولِهَا: زمین کے ہموار اور کھلے میدان۔
قُصُورًا: محل اور بلند و بالا عمارتیں۔
تَنْحِتُونَ: تراشنا، کاٹنا (پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنانا)۔
آلَاءَ: نعمتیں، احسانات۔
تَعْثَوْا: فساد پھیلانا، حد سے تجاوز کرنا (یہاں شدید فساد مراد ہے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صالح علیہ السلام کی قومِ ثمود کو مخاطب کر کے انہیں اپنی عظیم نعمتوں کی یاد دلاتا ہے، تاکہ وہ شکر گزار بنیں اور سرکشی نہ کریں۔ فرمایا: "اے قومِ ثمود! اس وقت کو یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کے بعد زمین کا جانشین بنایا۔ عاد اپنی طغیانی اور کفر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، اور تم ان کی جگہ آباد ہوئے۔ اللہ نے تمہیں زمین میں وہ اقتدار اور سکونت عطا کی کہ تم ہموار میدانوں میں شاندار محل تعمیر کرتے ہو، اور پہاڑوں کو تراش کر ان میں محفوظ مکانات بناتے ہو۔ گرمیوں میں میدانی قصور اور سردیوں میں پہاڑی گھر تمہارے لیے راحت کا ذریعہ بنے۔"
یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تم پر احسان ہے، اس لیے اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو اور ان کا شکر ادا کرو۔ شکر کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، اس کے حکموں پر چلو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ "فساد" سے مراد صرف قتل و غارت گری نہیں، بلکہ کفر، شرک، معصیت، ظلم، اور اللہ کے احکام سے سرکشی بھی شامل ہے۔ جو لوگ اللہ کی نعمتیں بھول کر زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے رب کے احسانات کا کفران کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں گننے سے ہماری محبت اللہ سے بڑھتی ہے اور ہمارے دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے گھر، صحت، رزق اور امن کو اللہ کا احسان سمجھتا ہے، تو وہ سرکشی نہیں کرتا۔ یاد رکھیں! اللہ کی نعمتیں ہمیں آزمائش کے لیے دی گئی ہیں، کہ ہم شکر گزار بنتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔ جو شکر گزار ہوتے ہیں، اللہ انہیں مزید نوازتا ہے، اور جو فساد پھیلاتے ہیں، ان کا انجام عاد کی طرح عبرتناک ہوتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں، ان پر شکر کریں، اور زمین پر امن و صلاح پھیلائیں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور اس کی جنت کے مستحق بنیں۔
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔