اعراف · 75/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ ۝٧٥
Qaalal mala ul lazeenas takbaroo min qawmihee lillazeenas tud`ifoo liman aamana minhum ata`almoona anna Saaliham mursalum mir Rabbih; qaalooo innaa bimaaa ursila bihee mu`minoon
📖 اردو ترجمہ
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَلَأُ: قوم کے سردار، معزز اور بڑے لوگ۔
  • اسْتَكْبَرُوا: جنہوں نے تکبر کیا، بڑائی حاصل کی اور ایمان لانے سے انکار کیا۔
  • اسْتُضْعِفُوا: جنہیں کمزور سمجھا گیا، حقیر جانا گیا۔
  • مُؤْمِنُونَ: ایمان لانے والے، تصدیق کرنے والے۔

تفسیر:

یہ وہ لمحہ ہے جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور معجزہ کے طور پر اونٹنی پیش کی۔ قوم کے دو گروہ تھے: ایک وہ جو ایمان لے آیا — یہ عام لوگ تھے، کمزور اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے؛ دوسرا وہ جو ایمان نہیں لایا — یہ سردار، مالدار اور متکبر لوگ تھے۔

آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ان متکبر سرداروں نے اپنی قوم کے ایمان لانے والے کمزور لوگوں سے طنزیہ انداز میں پوچھا: "کیا تم واقعی جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں؟" ان کا مقصد ایمان والوں کو جھٹلانا اور ان کے ایمان کو کمزور کرنا تھا۔ وہ اپنے جاہ و مرتبے کے نشے میں یہ سمجھتے تھے کہ اگر صالح علیہ السلام واقعی نبی ہوتے تو ہم جیسے بڑے لوگ ان پر ایمان لاتے، نہ کہ یہ غریب اور کمزور لوگ۔

لیکن ایمان والوں کا جواب سنہری تھا۔ انہوں نے بلا کسی تردد اور خوف کے کہا: "ہم اس پیغام پر ایمان رکھتے ہیں جو صالح کو دے کر بھیجا گیا ہے۔" انہوں نے نہ صرف صالح علیہ السلام کی رسالت کی تصدیق کی بلکہ اس پر مکمل یقین اور اطاعت کا اظہار کیا۔ ان کے جواب میں نہ کوئی شک تھا، نہ تذبذب، نہ دنیا کا خوف۔ وہ جان چکے تھے کہ حق وہی ہے جو اللہ کے نبی لائے ہیں، چاہے دنیا کے بڑے لوگ اسے مانے یا نہ مانے۔

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ایمان کا تعلق دل کی صداقت سے ہے، نہ کہ دنیاوی حیثیت سے۔ اللہ کے ہاں وہی عزت والا ہے جو تقویٰ رکھتا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر۔ دوسرا یہ کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کو مخالفین کے طعنوں اور استہزاء کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انہیں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ جب دل میں ایمان کی روشنی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔

آج بھی جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے یا حق پر قائم رہتا ہے، تو اسے طرح طرح کے اعتراضات اور طعنے سننے پڑتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان ایمان والوں کی طرح مضبوط جواب دینا چاہیے: "ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور ہم اس پر عمل کرنے والے ہیں۔" یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی اور نجات کا ضامن ہے۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمارے دلوں میں ایمان کی مضبوطی پیدا کرے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-77 — اعراف

73وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
74وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
75قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
76قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِي آمَنتُم بِهِ كَافِرُونَ
تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
77فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — اعراف 75

سورہ اعراف آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے…

سورہ آیت 75/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں