ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْمَلَأُ: قوم کے سردار، معزز اور بڑے لوگ۔
- اسْتَكْبَرُوا: جنہوں نے تکبر کیا، بڑائی حاصل کی اور ایمان لانے سے انکار کیا۔
- اسْتُضْعِفُوا: جنہیں کمزور سمجھا گیا، حقیر جانا گیا۔
- مُؤْمِنُونَ: ایمان لانے والے، تصدیق کرنے والے۔
تفسیر:
یہ وہ لمحہ ہے جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور معجزہ کے طور پر اونٹنی پیش کی۔ قوم کے دو گروہ تھے: ایک وہ جو ایمان لے آیا — یہ عام لوگ تھے، کمزور اور غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے؛ دوسرا وہ جو ایمان نہیں لایا — یہ سردار، مالدار اور متکبر لوگ تھے۔
آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ان متکبر سرداروں نے اپنی قوم کے ایمان لانے والے کمزور لوگوں سے طنزیہ انداز میں پوچھا: "کیا تم واقعی جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں؟" ان کا مقصد ایمان والوں کو جھٹلانا اور ان کے ایمان کو کمزور کرنا تھا۔ وہ اپنے جاہ و مرتبے کے نشے میں یہ سمجھتے تھے کہ اگر صالح علیہ السلام واقعی نبی ہوتے تو ہم جیسے بڑے لوگ ان پر ایمان لاتے، نہ کہ یہ غریب اور کمزور لوگ۔
لیکن ایمان والوں کا جواب سنہری تھا۔ انہوں نے بلا کسی تردد اور خوف کے کہا: "ہم اس پیغام پر ایمان رکھتے ہیں جو صالح کو دے کر بھیجا گیا ہے۔" انہوں نے نہ صرف صالح علیہ السلام کی رسالت کی تصدیق کی بلکہ اس پر مکمل یقین اور اطاعت کا اظہار کیا۔ ان کے جواب میں نہ کوئی شک تھا، نہ تذبذب، نہ دنیا کا خوف۔ وہ جان چکے تھے کہ حق وہی ہے جو اللہ کے نبی لائے ہیں، چاہے دنیا کے بڑے لوگ اسے مانے یا نہ مانے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ایمان کا تعلق دل کی صداقت سے ہے، نہ کہ دنیاوی حیثیت سے۔ اللہ کے ہاں وہی عزت والا ہے جو تقویٰ رکھتا ہے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر۔ دوسرا یہ کہ حق کی راہ پر چلنے والوں کو مخالفین کے طعنوں اور استہزاء کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انہیں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ جب دل میں ایمان کی روشنی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔
آج بھی جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے یا حق پر قائم رہتا ہے، تو اسے طرح طرح کے اعتراضات اور طعنے سننے پڑتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان ایمان والوں کی طرح مضبوط جواب دینا چاہیے: "ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور ہم اس پر عمل کرنے والے ہیں۔" یہی وہ راستہ ہے جو کامیابی اور نجات کا ضامن ہے۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمارے دلوں میں ایمان کی مضبوطی پیدا کرے۔ آمین۔
📜 آیت 73-77 — اعراف
ترجمہ — اعراف 75
سورہ اعراف آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے…سورہ آیت 75/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








