اعراف · 73/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝٧٣
Wa ilaa Samooda akhaahum Saalihaa; qaala yaa qawmi` budul laaha maa lakum min ilaahin ghairuhoo qad jaaa`atkum baiyinatum mir Rabbikum haazihee naaqatul laahi lakum Aayatan fazaroohaa taakul feee ardil laahi wa laa tamassoohaa bisooo`in fa yaakhuzakum `azaabun aleem
📖 اردو ترجمہ
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت 73: سورہ اعراف

پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:

  • ثَمُود: ایک مشہور عرب قبیلہ، جو حجاز اور شام کے درمیان پہاڑی علاقوں میں آباد تھا۔
  • أَخَاهُمْ: ان کا بھائی، یعنی نسب اور قوم میں بھائی، دین میں نہیں۔
  • صَالِحًا: حضرت صالح علیہ السلام، جو اس قوم کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے۔
  • بَیِّنَةٌ: واضح دلیل اور معجزہ۔
  • نَاقَةُ اللہِ: اللہ کی اونٹنی، اسے اللہ کی طرف منسوب کرنا اس کی عظمت اور خصوصیت کے لیے ہے۔
  • آیَةً: نشانی اور معجزہ۔
  • تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ: اسے کسی برائی سے چھونا، یعنی نقصان پہنچانا، مارنا یا زخمی کرنا۔
  • عَذَابٌ أَلِیمٌ: دردناک عذاب۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قومِ ثمود کی طرف انہیں کے بھائی حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہ وہ قوم تھی جو بت پرستی میں مبتلا ہو چکی تھی اور اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کرتی تھی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے میری قوم! صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جو عبادت کے لائق ہو۔" انہوں نے اپنی دعوت کے ساتھ یہ بھی کہا کہ میں تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل اور معجزہ لے کر آیا ہوں۔

قوم نے مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔ چنانچہ اللہ کے حکم سے ایک بڑی اونٹنی چٹان سے نکلی، جو اللہ کی قدرت کا عظیم نشان تھی۔ یہ اونٹنی اللہ کی طرف منسوب تھی، اس لیے اسے "ناقة اللہ" کہا گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے قوم سے کہا: اس اونٹنی کو اللہ کی زمین میں چرنے کے لیے چھوڑ دو، اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تم پر دردناک عذاب آئے گا۔

یہ اونٹنی اللہ کی قدرت کا ایک زندہ معجزہ تھی، جو لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا باعث تھی۔ اس کے پانی پینے کی باری تھی اور لوگوں کے لیے الگ دن مقرر تھا۔ لیکن قوم نے اپنی سرکشی اور ضد کی وجہ سے اس معجزے کو نہ مانا اور آخر کار اسے ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول اور واضح نشانیاں بھیجتا ہے۔ جب انسان اللہ کے معجزات اور نشانیوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتا اور سرکشی پر اڑا رہتا ہے، تو اس کا انجام برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں اور نشانیوں پر غور کریں، ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنے خالق کی عبادت میں مشغول رہیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔

یاد رکھیں! اللہ کی اطاعت اور اس کے رسولوں کی پیروی ہی نجات کا راستہ ہے، اور جو لوگ اللہ کے احکام سے منہ موڑتے ہیں، وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 71-75 — اعراف

71قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
72فَأَنجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ
پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں
73وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
74وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
75قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
73آیت

ترجمہ — اعراف 73

سورہ اعراف آیت 73 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو…

سورہ آیت 73/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 71–75. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں