تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْتَكْبَرُوا: تکبر کیا، بڑائی حاصل کی، سرکشی کی۔
كَافِرُونَ: انکار کرنے والے، جھٹلانے والے۔
تفسیر:
جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے مومنوں نے اپنے ایمان کا اعلان کیا اور حق کو قبول کر لیا، تو ان کے مقابلے میں جو لوگ تکبر اور غرور میں مبتلا تھے، انہوں نے بڑی ہٹ دھرمی اور ضد کے ساتھ کہا: "ہم اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو۔" یعنی انہوں نے نہ صرف خود حق قبول کرنے سے انکار کیا، بلکہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے کفر کا اعلانِ عام کیا۔ ان کا یہ رویہ محض ضد اور عناد پر مبنی تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت صالح علیہ السلام سچے نبی ہیں، لیکن اپنی بڑائی اور دنیاوی مرتبے کے نشے میں انہوں نے حق کو قبول کرنے سے صرف اس لیے انکار کیا کہ ان کی قیادت اور برتری پر زد پڑتی نظر آتی تھی۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ تکبر اور غرور انسان کو اندھا کر دیتا ہے، اور وہ حق کو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔ یہی وہ صفت ہے جو ابلیس کو اللہ کی رحمت سے محروم کر گئی تھی، اور یہی صفت انسانوں کو بھی ہلاکت کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں سے تکبر اور غرور کو نکال دیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو عاجزی اور انکساری سکھاتا ہے۔ جب ہم حق کو سنیں تو اسے قبول کرنے میں تاخیر نہ کریں، چاہے وہ کسی سے بھی آئے۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا متکبروں کو ذلیل کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور عاجزی کرنے والوں کو بلند کیا ہے۔ آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں اور اپنے دلوں کو تواضع اور نرمی کا گہوارہ بنائیں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور مغفرت کے مستحق بن سکیں۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔