اعراف · 87/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ۝٨٧
Wa In kaana taaa`ifatum minkum aamanoo billazeee ursiltu bihee wa taaa`ifatul lam yu`minoo fasbiroo hattaa yahkumual laahu bainanaa; wa Huwa khairul haakimeen
📖 اردو ترجمہ
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معاني الكلمات:

  • طَائِفَةٌ: ایک جماعت یا گروہ۔
  • آمَنُوا: ایمان لائے، تصدیق کی۔
  • فَاصْبِرُوا: انتظار کرو، صبر کرو۔
  • يَحْكُمَ اللَّهُ: اللہ فیصلہ کرے۔
  • خَيْرُ الْحَاكِمِينَ: سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں حضرت شعیب علیہ السلام کی اپنی قوم سے گفتگو کا ایک اہم حصہ بیان ہوا ہے۔ وہ اپنی قوم کو سمجھا رہے ہیں کہ تم لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہو: ایک گروہ وہ ہے جو اس پیغام پر ایمان لایا جو میں لے کر آیا ہوں، اور دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اسے قبول نہیں کیا۔ یہ صورت حال کسی بھی نبی کی دعوت کا امتحان ہوتی ہے۔

حضرت شعیب علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ اے جھٹلانے والو! تم ایمان لانے والوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا جھگڑے میں نہ پڑو، بلکہ صبر کرو اور انتظار کرو اس فیصلے کا جو اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان کرے گا۔ یہ انتظار دراصل اللہ کے عذاب کا انتظار ہے جو کافروں پر نازل ہوگا، اور مؤمنین کے لیے نجات کا انتظار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، کیونکہ وہ عادل ہے، اس کا فیصلہ کبھی ظلم پر مبنی نہیں ہوتا، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

یہاں "صبر" کا حکم دراصل ایک دھمکی اور وعید ہے، نہ کہ کفر پر قائم رہنے کی اجازت۔ یعنی اللہ کا فیصلہ آنے تک انتظار کرو، اور یہ فیصلہ یقینی طور پر آ کر رہے گا۔ اس آیت میں مؤمنین کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں، کیونکہ اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں ہوگا، اور کافروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان کا انجام برا ہوگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق و باطل کا ٹکراؤ ہمیشہ سے جاری رہا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہمیشہ حق کے حق میں ہوتا ہے۔ جب ہم کسی حق پر قائم ہوتے ہیں تو ہمیں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی ظلم نہیں کرتا۔ ہمیں اپنے معاملات میں بھی اللہ کے فیصلے پر بھروسہ رکھنا چاہیے، اور اس کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ یہی ایمان کی پختگی کی نشانی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 85-89 — اعراف

85وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
86وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ وَاذْكُرُوا إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
87وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
88۞ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
89قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
87آیت

ترجمہ — اعراف 87

سورہ اعراف آیت 87 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر…

سورہ آیت 87/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 85–89. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں