Wa laa taq`udoo bikulli siraatin too`idoona wa tasuddoona `an sabeelil laahi man aamana bihee wa abghoonahaa `iwajaa; waz kurooo iz kuntum qaleelan fakassarakum wanzuroo kaifa kaana `aaqibatul mufsideen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و بر سر راهها منشينيد تا مؤمنان به خدا را بترسانيد و از راه خدا بازداريد و به كجروى واداريد. و به ياد آريد آنگاه كه اندك بوديد، خدا بر شمار شما افزود. و بنگريد كه عاقبت مفسدان چگونه بوده است.
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
صِرَاط: راستہ، طریقہ۔
تُوعِدُونَ: تم ڈراتے ہو، دھمکی دیتے ہو۔
تَصُدُّونَ: تم روکتے ہو، باز رکھتے ہو۔
سَبِیلِ اللہ: اللہ کا راستہ، دینِ اسلام۔
تَبْغُونَهَا عِوَجًا: تم اس (اللہ کے راستے) کو ٹیڑھا بنانا چاہتے ہو۔
عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِینَ: فساد کرنے والوں کا انجام۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ کے راستے پر چلنے والوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی نہ کرو، اور نہ ہی ہر راستے پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو کہ اگر تم ہماری بات نہ مانو گے تو ہم تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ یہ وہ طریقہ تھا جو قومِ شعیب علیہ السلام کے مالدار اور طاقتور لوگ اپناتے تھے کہ وہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو ڈراتے تھے، ان کے اموال لوٹتے تھے، اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا اور سیدھے راستے پر چلتا تھا، اسے اللہ کے دین سے روکتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ کا راستہ ٹیڑھا ہو جائے تاکہ لوگ اس پر چلنا چھوڑ دیں، اور وہ اپنے مفادات پورے کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت فرماتا ہے کہ اے لوگو! اس وقت کو یاد کرو جب تم تعداد میں بہت کم تھے، کمزور اور بے یار و مددگار تھے، تو اللہ نے اپنی قدرت سے تمہیں کثرت عطا کی، تمہاری تعداد بڑھائی، تمہیں قوت اور عزت دی۔ یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے، اس لیے اس نعمت کا شکر ادا کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔
اور ذرا ان لوگوں کے انجام پر غور کرو جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے، اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے، اور لوگوں کو راہِ راست سے بھٹکاتے تھے۔ دیکھو ان کا انجام کیا ہوا؟ وہ ہلاک اور تباہ کر دیے گئے، ان کی کوئی باقی نہ رہی۔ یہ عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں کبھی بھی اللہ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، بلکہ ہمارا کام لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانا ہے، انہیں نیکی کی تلقین کرنا ہے، اور ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی پھیلانا ہے۔ جو لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے لیے نقصان کا سامان کرتے ہیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ فساد کرنے والوں کا انجام برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں، اس کا شکر ادا کریں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے، آمین۔
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔