اعراف · 88/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
۞ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ ۝٨٨
Qaalal mala ul lazeenas takbaroo min qawmihee lanukhrijannaka yaa Shu`aibu wallazeena aamanoo ma`aka min qaryatinaaa aw lata`oo dunna fee millatinaa; qaala awa law kunnaa kaariheen
📖 اردو ترجمہ
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَلَأُ: قوم کے سردار اور معزز لوگ۔
  • اسْتَكْبَرُوا: تکبر کیا، یعنی ایمان لانے سے انکار کیا اور بڑائی کا اظہار کیا۔
  • لَنُخْرِجَنَّكَ: ہم آپ کو ضرور نکال دیں گے۔
  • مِلَّتِنَا: ہمارے دین اور ہمارے مذہب کی پیروی۔
  • لَتَعُودُنَّ: تم لوٹ آؤ گے۔
  • كَارِهِينَ: ناپسند کرنے والے، بیزار دل۔

تفسیر:

یہ وہ منظر ہے جب حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو توحید کی دعوت دے رہے تھے اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے انہیں راہِ راست کی طرف بلاتے تھے۔ قوم کے متکبر سردار، جن کے دلوں میں غرور اور بڑائی نے سر چڑھ کر بولنا شروع کر دیا تھا، انہوں نے نہ صرف دعوت کو ٹھکرایا بلکہ دھمکی پر اتر آئے۔ انہوں نے کہا: "اے شعیب! ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اس بستی سے ضرور نکال دیں گے، یا پھر تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا۔" یعنی انہوں نے دو ہی راستے رکھے: یا تو جلاوطنی اور بے گھری، یا پھر اپنے آبائی دینِ شرک کی طرف واپسی۔

یہ دھمکی صرف حضرت شعیب علیہ السلام کو نہیں تھی بلکہ ان تمام مومنین کو تھی جو ان پر ایمان لا چکے تھے۔ لیکن اللہ کے نبی نے اس دھمکی کا جواب بڑے ہی پرجلال انداز میں دیا۔ انہوں نے فرمایا: "کیا تم ہمیں مجبور کرو گے کہ ہم تمہارے دین کی پیروی کریں، چاہے ہم اسے دل سے ناپسند کریں؟" یعنی ہم جانتے ہیں کہ تمہارا دین باطل ہے، ہم اس سے بیزار ہیں، پھر بھی تم ہمیں اس کی طرف لوٹنے پر مجبور کرو گے؟ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ تم ہمیں اس چیز کی دعوت دیتے ہو جس سے ہمارے دل نفرت کرتے ہیں۔

یہاں حضرت شعیب علیہ السلام کا اندازِ گفتگو نہایت حکمت والا ہے۔ انہوں نے نہ تو خوف ظاہر کیا اور نہ ہی کسی قسم کی کمزوری، بلکہ حق پر مضبوطی سے قائم رہنے کا اعلان کیا۔ ان کا یہ جواب ہر اس مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو حق پر قائم ہے اور باطل کی دھمکیوں کا سامنا کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اول یہ کہ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن اللہ والوں کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ دوم یہ کہ باطل کی قوتیں چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، وہ حق کو ختم نہیں کر سکتیں۔ سوم یہ کہ مومن کی زبان پر ہمیشہ حق ہونا چاہیے، چاہے سامنے طاقت ہی کیوں نہ ہو۔ اور چہارم یہ کہ اللہ اپنے نبیوں اور ان کے ساتھیوں کی مدد کرتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی سخت آزمائشوں سے گزریں۔ آج بھی جو مسلمان حق پر قائم ہیں، انہیں یہ آیت صبر اور استقامت کا درس دیتی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے مومنین بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہی وہ ایمان ہے جو ہمیں ہر مشکل میں مضبوط رکھتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 86-90 — اعراف

86وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ وَاذْكُرُوا إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
87وَإِن كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
88۞ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
89قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
90وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
88آیت

ترجمہ — اعراف 88

سورہ اعراف آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے…

سورہ آیت 88/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں