ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَضَلُّوا: گمراہ کیا۔
- الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، یعنی کفر و شرک پر اصرار کرنے والے۔
- ضَلَالًا: گمراہی، حق سے دوری۔
تفسیرِ آیہ:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی سرکشی اور ضلالت کی انتہا دیکھ کر دعا فرمائی کہ اے میرے رب! ان بڑوں اور سرداروں نے اپنے بتوں کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ یہ بت دراصل کچھ نیک لوگوں کی مورتیاں تھیں جنہیں بعد کی نسلوں نے معبود بنا لیا، اور شیطان نے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی کہ یہ تمہارے بزرگوں کے معبود ہیں، اس طرح وہ لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے۔
پھر حضرت نوح علیہ السلام نے ان ظالموں کے حق میں بددعا فرمائی: "اے میرے رب! ان ظالموں کو اور زیادہ گمراہی میں مبتلا کر دے" — یہ دعا اس وقت کی گئی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دے دی تھی کہ ان قوم میں سے جو ایمان لانے والے تھے وہ ایمان لا چکے، اب کوئی اور ایمان نہیں لائے گا۔ اس لیے حضرت نوح علیہ السلام نے مایوس ہو کر ان کے حق میں ہلاکت اور ضلالت کی دعا کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں چند اہم سبق ملتے ہیں:
- بت پرستی اور شرک کا انجام: جب انسان اللہ کے بجائے کسی اور کو معبود بنا لیتا ہے، تو وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہر قسم کی شرکیہ رسومات اور بدعات سے بچیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔
- نیک لوگوں کی یادگاروں کا غلط استعمال: اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک لوگوں کی تعظیم میں غلو کرنا اور ان کی شکلیں بنا کر انہیں پوجنا کس قدر خطرناک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال اور عبادات کو خالص اللہ کے لیے رکھیں اور کسی بھی طرح کے شرک سے بچیں۔
- دعا کی طاقت: حضرت نوح علیہ السلام کی دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ نبیوں کی دعائیں اللہ کے ہاں قبول ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے معاملات میں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے، خاص طور پر جب ہم کسی قوم یا معاشرے کی اصلاح سے مایوس ہو جائیں تو اللہ سے اس کی ہدایت یا اس کے شر سے نجات کی دعا کریں۔
- اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا: اگرچہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی، لیکن یہ اس وقت تھا جب اللہ نے خود انہیں خبر دے دی تھی کہ اب کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ ہمیں چاہیے کہ جب تک اللہ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہ آئے، ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے دعا کرتے رہیں اور انہیں نیکی کی طرف بلاتے رہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت سے دوری اختیار کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے — وہ نہ صرف دنیا میں ذلیل ہوتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ اللہ ہمیں شرک اور گمراہی سے بچائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلائے۔ آمین۔
📜 آیت 22-26 — نوح
ترجمہ — نوح 24
سورہ نوح آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو…سورہ آیت 24/28 — نوح نوح (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نوح سنیں, نوح ترجمہ, نوح mp3, نوح pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








