ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السَّابِقَاتِ: سبقت کرنے والی (یعنی فرشتے)۔
- سَبْقًا: تیزی سے آگے بڑھنا، دوڑ کر سبقت لے جانا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو اپنے کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم کو بڑی تیزی اور سرعت کے ساتھ بجا لاتے ہیں، چاہے وہ آسمان سے اترنا ہو یا آسمان کی طرف چڑھنا ہو، یا کسی اور نیک کام میں جلدی کرنا ہو۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ وہ فرشتے ہیں جو وحی لے کر آتے ہیں اور شیاطین سے پہلے پہنچ جاتے ہیں، تاکہ شیاطین وحی کو چوری نہ کر سکیں۔ یہ فرشتے اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی ان میں ٹال مٹول ہوتی ہے، بلکہ وہ بڑی تیزی سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
یہ قسم اس بات کی تاکید کے لیے ہے کہ قیامت ضرور آنے والی ہے اور تمام مخلوقات کو دوبارہ زندہ کر کے ان سے حساب لیا جائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کی قسم کھاتا ہے جو اپنے فرائض میں اتنے تیز اور مستعد ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ بھی اسی طرح یقینی اور برحق ہے جس طرح یہ فرشتے اپنے کام میں سبقت لے جاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جس طرح فرشتے اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں سبقت لے جاتے ہیں، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں۔ ہماری زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، اور اس کے لیے ہمیں ہر لمحہ نیکی کے کاموں میں جلدی کرنی چاہیے۔ فرشتے تو بلا اختیار اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہیں، لیکن ہمیں اختیار دیا گیا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اللہ کی اطاعت کریں اور اس کی رحمت کے حقدار بنیں۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہم اپنے اختیار سے وہ کام کریں جو فرشتے بلا اختیار کرتے ہیں، اور اس طرح ہم اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں میں شامل ہوں۔ آمین۔
📜 آیت 2-6 — نازعات
ترجمہ — نازعات 4
سورہ آیت 4/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








