Wazkurooo iz antum qaleelum mustad `afoona filardi takhaafoona ai yatakhat tafakumun naasu fa aawaakum wa aiyadakum binasrihee wa razaqakum minat taiyibaati la`allakum tashkuroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و به ياد آوريد آن هنگام را كه اندك بوديد و در شمار زبونشدگان اين سرزمين، بيم آن داشتيد كه مردم شما را از ميان بردارند و خدا پناهتان داد و يارى كرد و پيروز گردانيد و از چيزهاى پاكيزه روزى داد، باشد كه سپاس گوييد.
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُسْتَضْعَفُونَ: کمزور اور دبے ہوئے، جنہیں کمزور سمجھ کر ستایا جائے۔
تَخَافُونَ: تم ڈرتے تھے۔
يَتَخَطَّفَكُمُ: تمہیں اچک لے جائیں، تم پر اچانک حملہ کر کے تمہیں نگل جائیں۔
فَآوَاكُمْ: پھر اس نے تمہیں پناہ دی، تمہیں امن کی جگہ دی۔
أَيَّدَكُم: تمہیں قوت دی، تمہاری تائید کی۔
الطَّيِّبَاتِ: پاکیزہ اور حلال روزی، جس میں غنیمت کے مال بھی شامل ہیں۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ کی ان عظیم نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیں، جب تم مکہ میں بہت کم تعداد میں تھے، بالکل کمزور اور بے بس تھے۔ تمہاری حالت یہ تھی کہ تمہیں ہر وقت خوف لاحق رہتا تھا کہ کفار اور دشمن تمہیں اچانک پکڑ لیں گے اور تمہیں نیست و نابود کر دیں گے۔ تمہارے پاس کوئی طاقت نہ تھی، نہ کوئی پناہ گاہ، نہ کوئی مددگار۔ لیکن اللہ نے اپنی رحمت سے تمہیں مدینہ کی طرف ہجرت کی توفیق دی اور وہاں تمہیں امن و امان کی جگہ عطا کی۔ اس نے تمہیں اپنے انصار کی صورت میں مدد دی، اور جنگ بدر کے موقع پر اپنے فرشتوں کے ذریعے تمہاری تائید فرمائی، جس سے تمہیں فتح حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے تمہیں پاکیزہ روزی عطا کی، جس میں غنیمت کے مال بھی شامل تھے، جو تم سے پہلے کسی امت کے لیے حلال نہیں ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ تم اللہ کے شکر گزار بندے بنو، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرو اور انہیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کرو۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی نعمتیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئیں۔ جب انسان اپنی کمزوری اور بے بسی کو یاد کرتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ اللہ نے اسے کس طرح نکالا، اسے عزت دی، اسے طاقت دی اور اسے رزق دیا، تو اس کا دل اللہ کی محبت اور شکرگزاری سے بھر جاتا ہے۔ یہی شکر انسان کو مزید نعمتوں کا مستحق بناتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ نے ہم پر بے شمار احسانات کیے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں یاد کریں اور اپنی زندگیوں میں اللہ کی اطاعت اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے کوشش کریں۔ جب ہم شکر گزار ہوں گے تو اللہ ہمیں مزید دے گا، اور اگر ہم ناشکری کریں گے تو اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ آئیے ہم سب اللہ کے شکر گزار بندے بنیں اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔
مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔