ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خُلِّفُوا: پیچھے چھوڑ دیے گئے، یعنی ان کی توبہ کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔
- ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ: زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی۔
- ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ: ان کے دل غم اور پریشانی سے تنگ آ گئے۔
- ظَنُّوا: انہوں نے یقین کر لیا۔
- مَلْجَا: پناہ کی جگہ، بچاؤ کا ٹھکانہ۔
- تَابَ عَلَیْهِمْ: اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
- تَوَّاب: بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان تین انصاری صحابہ کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے غزوہ تبوک کے موقع پر سستی اور کاہلی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے کی بجائے پیچھے رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ تینوں حضرات تھے: حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ، اور حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم۔ یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے جھوٹے عذر پیش نہیں کیے، بلکہ سچ بول کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول کرنے میں پچاس دن کی تاخیر فرمائی، تاکہ یہ امتحان مکمل ہو اور ان کے لیے یہ مدت انتہائی سخت آزمائش بن جائے۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مسلمان ان سے بات چیت اور میل جول ترک کر دیں۔ چنانچہ پوری مدینہ کی آبادی نے ان سے قطع تعلق کر لیا، یہاں تک کہ ان کی بیویوں تک کو الگ رہنے کا حکم دیا گیا۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ تینوں صحابہ اس حال میں تھے کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی، یعنی ہر طرف سے ان پر پریشانی اور رنج کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، اور ان کے دل اس قدر مضطرب ہوئے کہ ان کی اپنی جانوں پر بھی بھاری ہو گئی، اور انہیں یقین کامل ہو گیا کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ اور بچاؤ کا ذریعہ نہیں ہے، تو اسی مخلصانہ حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت فرمائی اور ان کی توبہ قبول کی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اس نے ان پر رحمت کی تاکہ وہ توبہ پر قائم رہیں اور اس کی اطاعت کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، چاہے گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بشرطیکہ توبہ خالص اور سچی ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور امید کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ کو نہ صرف معاف کیا بلکہ ان کی توبہ کو اس قدر پسند فرمایا کہ قرآن میں ان کا تذکرہ قیامت تک کے لیے زندہ کر دیا۔ یہ بتاتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو مایوس نہ ہوں، بلکہ سچے دل سے توبہ کریں، اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ یاد رکھیں، توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، اور اللہ اپنے بندوں کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے۔
📜 آیت 116-120 — توبہ
ترجمہ — توبہ 118
سورہ توبہ آیت 118 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا…سورہ آیت 118/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 116–120. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







