اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو
📜
ترجمہ — Tafsir
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
معانی الفاظ:
اتَّقُوا اللَّهَ: اللہ سے ڈرو، اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچو۔
الصَّادِقِينَ: سچے لوگ، جو اپنے ایمان، قول اور عمل میں سچے ہوں۔
تفسیر:
اے ایمان لانے والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہو اور اس کے دین پر عمل کرتے ہو، تو اب اللہ سے ڈرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یعنی اس کے حکموں کو مانو اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرو۔ اور ہمیشہ سچے لوگوں کے ساتھ رہو، ان کی صحبت اختیار کرو۔ سچے لوگ وہ ہیں جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، اپنی باتوں میں سچے ہیں اور اپنے اعمال میں سچے ہیں۔ وہ اللہ سے عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں، وہ جھوٹ سے بچتے ہیں اور ہر معاملے میں صدق و راستی کو اپناتے ہیں۔
یاد رکھو کہ نجات صرف سچائی میں ہے۔ جھوٹ اور دھوکہ انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ صدق و راستی ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ سچے لوگوں کی صحبت تمہارے ایمان کو مضبوط کرے گی، تمہارے اعمال کو درست کرے گی اور تمہیں اللہ کی رضا کے قریب لے جائے گی۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے۔ اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم سچے لوگوں کے ساتھ رہیں، کیونکہ انسان اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے۔ اگر ہم سچے لوگوں کی صحبت اختیار کریں گے تو ہم بھی سچائی کو اپنائیں گے، اور اگر ہم جھوٹوں کی صحبت میں رہیں گے تو ہم بھی جھوٹ کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ آج کے دور میں جہاں جھوٹ، دھوکہ اور فریب عام ہو گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم سچے لوگوں کی تلاش کریں اور ان کے ساتھ رہ کر اپنی آخرت سنواریں۔ سچائی وہ نور ہے جو دل کو منور کرتا ہے اور جھوٹ وہ اندھیرا ہے جو انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ ہمیں سچے لوگوں میں شامل فرمائے اور ہمیں صدق و راستی پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!
بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے
اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔