ترجمہ — Tafsir
لَقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
معانی الفاظ:
- تَابَ اللَّهُ عَلَى: اللہ کی توبہ قبول کرنا، یعنی اپنی رحمت سے گناہ معاف فرمانا اور فضل و کرم سے نوازنا۔
- سَاعَةِ الْعُسْرَةِ: تنگی اور مشکل کا وقت، جس سے مراد غزوہ تبوک کا زمانہ ہے جب شدید گرمی، خوراک کی قلت اور سواریوں کی کمی تھی۔
- يَزِيغُ: مائل ہونا، ٹیڑھا ہونا، حق سے ہٹنا۔
- رَءُوفٌ رَّحِيمٌ: بہت مہربان اور بے حد رحم فرمانے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی خاص رحمت اور توبہ قبول فرمانے کا ذکر کیا ہے، کیونکہ آپ نے منافقوں کو غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے کی اجازت دی تھی، اور یہ آپ کے حق میں کوئی گناہ نہ تھا، بلکہ اللہ نے اس پر بھی اپنا فضل فرمایا۔ پھر اللہ نے مہاجرین پر توبہ قبول کی، جنہوں نے اپنے گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں ہجرت کی، اور انصار پر بھی توبہ قبول کی، جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور آپ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے انتہائی مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا، جب گرمی شدید تھی، سایہ نہ تھا، پانی کم تھا، سواریاں کم تھیں، اور دشمن بھی طاقتور تھا۔ اس سب کے باوجود وہ آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل قریب تھے کہ حق سے مائل ہو جائیں اور مشقت کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں، لیکن اللہ نے انہیں ثابت قدم رکھا اور ان کے دلوں کو مضبوط کیا۔ پھر اللہ نے ان پر توبہ قبول کی، یعنی انہیں توفیق دی کہ وہ اپنے ارادے پر قائم رہیں اور جہاد سے پیچھے نہ ہٹیں۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں کو جانتا ہے، پھر بھی ان پر مہربانی کرتا ہے اور انہیں توبہ کی توفیق دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت شفقت کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرے، انہیں ثابت قدم رکھے، اور ان کی کمزوریوں کو معاف فرما دے۔ یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ جب ہم اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں، چاہے مشکلات کتنی ہی زیادہ ہوں، اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے اور ہمیں ثابت قدم رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو اللہ کی طرف مائل رکھیں، اور جب بھی ہم سے کوئی کوتاہی ہو جائے، تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور ان کی بھلائی چاہتا ہے۔
📜 آیت 115-119 — توبہ
ترجمہ — توبہ 117
سورہ آیت 117/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 115–119. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







