یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے
📜
ترجمہ — Tafsir
یہ آیت کافروں کی اس کوشش کا ذکر کرتی ہے کہ وہ اللہ کے دین کو مٹا دیں، لیکن اللہ کا فیصلہ اس کے برعکس ہے۔
معانی الفاظ:
نور اللہ: اسلام، قرآن، اور وہ ہدایت جو اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
بأفواههم: اپنے منہ سے، یعنی جھوٹے دلائل اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے۔
يطفئوا: بجھا دیں، ختم کر دیں۔
يأبى اللہ: اللہ انکار کرتا ہے، یعنی اللہ کا ارادہ اس کے خلاف ہے۔
يتم نوره: اپنے نور کو مکمل کرے، یعنی اپنے دین کو غالب اور کامل کرے۔
تفسیر:
کافر اور مشرکین اپنے منہ سے ایسی باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کا نور بجھ جائے، قرآن کے احکام ختم ہو جائیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا کر لوگوں کو راہِ راست سے بھٹکا دیں۔ وہ اپنے باطل دلائل اور جھوٹے پروپیگنڈے سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حق کو مٹا سکتے ہیں، لیکن ان کی یہ کوشش نہایت کمزور اور بے اثر ہے، جیسے کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی بجھانے کی کوشش کرے۔
اللہ تعالیٰ کا ارادہ اور فیصلہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اللہ نے اپنے دین کو مکمل کرنے، اپنے رسول کی مدد کرنے، اور اپنے کلمے کو بلند کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ وہ اپنے نور کو ہر حال میں مکمل کر کے رہے گا، چاہے کافر اس سے کتنا ہی نفرت کریں اور اس کے خلاف کتنی ہی سازشیں کریں۔ اللہ کا ارادہ غالب ہے، اور کوئی طاقت اس کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور اطمینان کا پیغام ہے۔ اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ حق کبھی مٹ نہیں سکتا، اور باطل کی تمام کوششیں آخرکار ناکام ہو کر رہتی ہیں۔ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ آج بھی دشمنانِ اسلام طرح طرح کی سازشیں کرتے ہیں، لیکن اللہ کا وعدہ قائم ہے کہ وہ اپنے دین کو غالب کر کے رہے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر پختہ یقین رکھیں، اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں، اور اللہ کی مدد کا انتظار کریں۔ جو لوگ اللہ کے دین کی نصرت کے لیے کوشش کرتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔