ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَفَّتْ: ہلکی ہوگئیں۔
- مَوَازِینُهُ: اس کے میزان (تلے)، یعنی نیکیوں اور بدیوں کا پیمانہ۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے دوسرے گروہ کا ذکر فرمایا ہے، یعنی وہ شخص جس کے میزان میں نیکیاں ہلکی پڑ جائیں گی اور اس کے برے اعمال اس کی اچھی کارگزاریوں پر غالب آ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا اور بدیوں کا پلڑا بھاری، کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں نیکیوں کی بجائے گناہوں اور برائیوں کو زیادہ جمع کیا تھا۔ یہ حالت اس شخص کی ہوگی جس نے ایمان کے باوجود نیک اعمال کو اہمیت نہ دی اور اپنے رب کے حضور خالی ہاتھ حاضر ہوا۔ اس کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے شخص کا ٹھکانا "ہاویہ" ہے، جو دوزخ کی گہری اور تیز آگ ہے۔
فوائد و اسباق:
- ہر انسان کے اعمال تولے جائیں گے، اور عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے کہ نیکی اور بدی کا وزن کیا جائے، چنانچہ ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کا وزن خود کر لیں۔
- نیکیوں کی کثرت ہی نجات کا ذریعہ ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی میں نیک اعمال کو بڑھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنا چاہیے۔
- یہ آیت ہمیں آخرت کی فکر دلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ دنیا کی ظاہری کامیابی حقیقی نہیں، اصل کامیابی وہ ہے جو اللہ کے میزان میں ہماری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو۔
- مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے رب سے ڈرے اور ہر عمل میں اخلاص رکھے، کیونکہ اللہ کے ہاں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وزن رکھتا ہے۔
📜 آیت 6-10 — قارعہ
ترجمہ — قارعہ 8
سورہ قارعہ آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گےسورہ آیت 8/11 — قارعہ القارعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قارعہ سنیں, قارعہ ترجمہ, قارعہ mp3, قارعہ pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








