یومٍ ألیم: اس دن کا عذاب جو انتہائی دردناک ہوگا، یعنی قیامت کا دن
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو جو سب سے پہلی اور اہم ترین دعوت دی، وہ یہی تھی کہ "اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔" یہ دراصل توحید کی دعوت تھی، جو تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ دعوت رہی ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ اگر تم نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرایا اور صرف اسی کی عبادت نہ کی، تو مجھے تم پر ایک دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے۔
یہ عذاب قیامت کے دن کا عذاب ہے، جو انتہائی سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا اندازِ دعوت بڑا شفیق اور مشفقانہ تھا، وہ اپنی قوم کو ڈراتے بھی تھے اور سمجھاتے بھی تھے، تاکہ وہ اللہ کی توحید کو قبول کریں اور اس کے عذاب سے بچ جائیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ توحید ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔ جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور عذاب سے ڈرایا، اسی طرح آج ہمیں بھی اپنے معاشرے میں توحید کی دعوت عام کرنی چاہیے۔ ہمیں لوگوں کو شرک سے بچانا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر نبی نے اپنی قوم کو دیا، اور یہی پیغام ہماری کامیابی اور نجات کی ضمانت ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو توحید کے مطابق ڈھالیں اور اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کی کوشش کریں، کیونکہ اللہ کی رحمت توحید پر چلنے والوں کے لیے ہے۔
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔