ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فُلْک: کشتی، بڑی ناؤ۔
- بِأَعْیُنِنَا: ہماری نگاہ اور حفاظت کے ساتھ، ہمارے سامنے۔
- وَحْیِنَا: ہمارے حکم اور تعلیم کے مطابق۔
- لَا تُخَاطِبْنِی: مجھ سے اس بارے میں گفتگو نہ کر، سفارش نہ کر۔
- ظَلَمُوا: جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا یعنی کفر و شرک کا ارتکاب کیا۔
- مُغْرَقُونَ: ڈبو دیے جانے والے، غرق ہونے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کشتی بنائیں، لیکن یہ کوئی عام حکم نہ تھا، بلکہ اس کے ساتھ خصوصی عنایات وابستہ تھیں۔ فرمایا: "کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری حفاظت میں بناؤ" یعنی تم اس کام میں مکمل طور پر محفوظ ہو، ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں، تمہاری حفاظت کر رہے ہیں، اور تمہارے دشمن تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ اللہ کا عظیم اطمینان تھا جو اس نے اپنے نبی کو دیا۔
پھر فرمایا: "اور ہمارے وحی کے مطابق" یعنی ہم تمہیں سکھائیں گے کہ کشتی کیسے بنانی ہے، اس کی تفصیلات کیا ہیں، کس طرح بنانا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے عملی رہنمائی تھی، کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا علم نہ تھا، اللہ نے وحی کے ذریعے انہیں یہ فن سکھایا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اہم تنبیہ فرمائی: "اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرو" یعنی ان لوگوں کی بخشش یا مہلت کے لیے سفارش نہ کرو جنہوں نے کفر و شرک کر کے اپنے اوپر ظلم کیا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کے اپنے بیٹے اور بیوی کو بھی اس میں شامل کیا گیا، کیونکہ وہ بھی کافر تھے۔ اللہ نے صاف فرما دیا: "یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں" یعنی ان کا انجام طے شدہ ہے، انہیں ڈبویا جائے گا، کوئی چیز انہیں نہیں بچا سکتی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت "عین" کا اثبات ہے، جو اس کی ذات کے لائق ہے، نہ ہم اس کی کیفیت جانتے ہیں اور نہ ہی کسی مخلوق سے مشابہت رکھتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- اللہ کی اطاعت میں جب ہم قدم اٹھاتے ہیں تو وہ ہماری حفاظت کرتا ہے، چاہے سارا معاشرہ ہمارے خلاف ہو جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے جب کشتی بنانا شروع کی تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن اللہ کی حفاظت ان کے ساتھ تھی۔
- اللہ کا حکم جب آتا ہے تو اس پر عمل کرنا چاہیے، چاہے وہ کام ہمیں ناممکن لگے۔ کشتی بنانا ایک مشکل کام تھا، لیکن اللہ نے وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی۔
- ہمیں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے۔ اللہ نے جب کسی قوم کے عذاب کا فیصلہ کر لیا تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی، چاہے کوئی کتنی ہی سفارش کرے۔
- سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ایمان ہی نجات کا ذریعہ ہے، رشتہ داریاں اور دنیاوی تعلقات اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ حضرت نوح کا بیٹا اور بیوی بھی کفر کی وجہ سے غرق ہوئے۔
آئیے ہم اللہ کی اطاعت کریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور حفاظت کے مستحق بنیں۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی حلاوت سے بھر دے۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — ہود
ترجمہ — ہود 37
سورہ ہود آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور…سورہ آیت 37/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








