Wa hiya tajree bihim fee mawjin kaljibaali wa naadaa Noohunib nahoo wa kaana fee ma`ziliny yaa bunai yarkam ma`anaa wa laa takum ma`al kaafireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كشتى آنان را در ميان امواجى چون كوه مىبرد. نوح پسرش را كه در گوشهاى ايستاده بود ندا داد: اى پسر، با ما سوار شو و با كافران مباش.
جب طوفانِ نوح کا آغاز ہوا اور اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہوا تو وہ مبارک کشتی اہلِ ایمان کو لے کر چل پڑی۔ پانی کی لہریں اتنی بلند اور طاقتور تھیں کہ وہ پہاڑوں کی مانند دکھائی دیتی تھیں۔ یہ منظر انتہائی ہیبت ناک تھا، مگر اللہ کی حفاظت میں کشتی بحفاظت چل رہی تھی۔ اس ہولناک منظر میں حضرت نوح علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی فکر ہوئی، جو ایمان نہیں لایا تھا اور اپنے باپ سے الگ ایک گوشے میں کھڑا تھا۔ باپ کا شفقت بھرا دل پکار اٹھا، انہوں نے محبت اور رحمت کے ساتھ اسے آواز دی: "اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جا، اور کافروں کے ساتھ نہ رہ، ورنہ تو بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو جائے گا جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔"
یہ منظر ہمیں سکھاتا ہے کہ نبی کریم علیہ السلام اپنی اولاد سے کس قدر محبت کرتے تھے، اور یہ کہ دعوتِ حق میں رشتہ داری کی کوئی قید نہیں، ہر شخص کو حق کی طرف بلانا ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ایمان ہی نجات کا ذریعہ ہے، نہ کہ نسب یا خاندانی تعلق۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کی، مگر بیٹے نے اپنی ضد اور کفر پر اصرار کیا۔
اس آیت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، اور والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو ہمیشہ حق کی طرف بلاتے رہیں، چاہے وہ کتنی ہی دور کیوں نہ چلے گئے ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم صرف ذریعہ بن سکتے ہیں۔ آج بھی ہمارے لیے یہی راستہ ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو اللہ کی اطاعت اور ایمان کی طرف بلائیں، اور انہیں کافروں اور گمراہوں کی صحبت سے بچانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ایمان پر ثابت قدم رکھے اور ہماری اولاد کو صالح بنائے۔ آمین۔
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا
اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔