Wa qaala niswatun filma deenatim ra atul`Azeezi turaawidu fataahaa `an nafsihee qad shaghafahaa bubbaa; innaa lana raahaa fee dalaalim mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
زنان شهر گفتند: زن عزيز در پى كامجويى از غلام خود شده است و شيفته او گشته است. ما وى را در گمراهى آشكارا مىبينيم.
تُرَاوِدُ: اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنا، اپنے نفس کی خواہش کے لیے بلانا۔
فَتَاهَا: اس کا غلام، اس کا جوان خادم۔
شَغَفَهَا: اس کے دل کے غلاف (پردے) کو چھلنی کر دیا، یعنی محبت دل کی تہہ تک پہنچ گئی۔
ضَلَالٍ مُبِينٍ: واضح گمراہی، صریح غلطی۔
تفسیر:
جب یہ معاملہ عام ہوا تو شہر کی عورتوں میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ یہ خبر خاص و عام میں پھیل گئی اور شہر کی معزز خواتین نے اس پر تعجب اور ملامت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: "عزیزِ مصر کی بیوی اپنے ہی غلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس کی محبت اس کے دل کی تہہ تک اتر چکی ہے۔ یہ عورت اپنے غلام کے پیچھے ایسی پڑ گئی ہے کہ اسے اپنی عزت و آبرو کا بھی خیال نہیں رہا۔" ان عورتوں نے اسے واضح گمراہی قرار دیا، کیونکہ ایک شادی شدہ معزز خاتون کا اپنے غلام کے پیچھے ایسا پاگل ہو جانا، عقل اور شرافت کے خلاف تھا۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے اندھا ہو جاتا ہے، تو وہ عزت، شرافت اور عقل سب کچھ کھو دیتا ہے۔ شہر کی عورتوں نے اگرچہ اس پر تنقید کی، لیکن بعد میں خود بھی اسی آزمائش میں مبتلا ہو گئیں جب انہوں نے یوسف علیہ السلام کا حسن دیکھا۔ یہ اللہ کی حکمت تھی کہ اس طرح ان عورتوں کو سبق ملا کہ جو شخص بھی اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے، وہ گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا چاہیے، اور اللہ کی حدود کی پاسداری کرنی چاہیے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے، اللہ اسے عزت اور کامیابی عطا فرماتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو عطا ہوئی۔ یہ قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ گناہ کی راہ بظاہر آسان لگتی ہے، لیکن اس کا انجام ذلت اور رسوائی ہے، جبکہ تقویٰ اور صبر کا انجام عزت اور بلندی ہے۔
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔