یوسف · 31/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ ۝٣١
Falammaa sami`at bimak rihinna arsalat ilaihinna wa a`tadat lahunna muttaka anw wa aatat kulla waahidatim min hunna sikkeenanw wa qaala tikh ruj `alaihinna falammaa ra aynahooo akbarnahoo wa qatta`na aydiyahunna wa qulna haasha lillaahi maa haaza basharaa; in haazaaa illaa malakun kareem
📖 اردو ترجمہ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مکرہن: ان عورتوں کی چال بازی اور طعنہ زنی۔
  • متکاً: تکیے اور فرش، جھکنے اور ٹیک لگانے کی جگہ۔
  • سکیناً: چھری۔
  • اکبرنہ: اسے بہت بڑا سمجھا، اس کی عظمت اور حسن سے دنگ رہ گئیں۔
  • قطعن ایدیہن: اپنے ہاتھ کاٹ لیے (خیرت اور حیرت کی وجہ سے
  • حاش للہ: اللہ کی پاکی ہے، معاذ اللہ۔

تفسیر:

جب زلیخا (امرأت عزیز) کو ان عورتوں کی مکر و فریب، طعنہ زنی اور برائیوں کا علم ہوا جو وہ اس کے بارے میں کر رہی تھیں، تو اس نے انہیں دعوت دی اور ان کے لیے ایک ایسی مجلس تیار کی جہاں تکیے اور فرش بچھے تھے، اور ہر ایک کو ایک چھری دے دی تاکہ وہ پھل کاٹیں۔ پھر اس نے یوسف علیہ السلام سے کہا: ان کے سامنے باہر آ جاؤ۔ جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو وہ اس کے حسن و جمال سے اس قدر متحیر اور دنگ رہ گئیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو چھریوں سے زخمی کر لیا، اور بے اختیار زبان سے نکلا: "حاش للہ! یہ انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔"

یہ وہ منظر تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کو ان عورتوں کے سامنے اس طرح ظاہر کیا کہ وہ خود اپنے الزام اور طعنہ زنی پر شرمندہ ہو گئیں، اور زلیخا کا عذر واضح ہو گیا کہ یوسف کی صورتِ حال کو دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ محبت میں گرفتار ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی عزت اور حفاظت خود کرتا ہے۔ یوسف علیہ السلام نے صبر اور تقویٰ کا راستہ اختیار کیا، اور اللہ نے انہیں ایسا مقام عطا کیا کہ دشمن بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حقیقی حسن اور کمال صرف اللہ کی عطا کردہ چیز ہے، اور انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانے اور ان کا شکر ادا کرے۔ نیز، یہ واقعہ عورتوں کے لیے بھی ایک نصیحت ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں اور غیر شرعی تعلقات سے بچیں، کیونکہ یہی راستہ دنیا اور آخرت میں عزت کا باعث ہے۔



📜 آیت 29-33 — یوسف

29يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۚ وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
30۞ وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
31فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
32قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
33قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
31آیت

ترجمہ — یوسف 31

سورہ یوسف آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں…

سورہ آیت 31/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں