Qaalat fazaalikunnal lazee lumtunnanee feeh; wa laqad raawattuhoo `an nafsihee fasta`sam; wa la`il lam yaf`al maaa aamuruhoo la yusjananna wa la yakoonam minas saaghireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: اين همان است كه مرا در باب او ملامت مىكرديد. من در پى كامجويى از او بودم و او خويشتن نگه داشت. اگر آنچه فرمانش مىدهم نكند، به زندان خواهد افتاد و خوار خواهد شد.
فَاسْتَعْصَمَ: اس نے اپنے آپ کو بچا لیا، یعنی انکار کر دیا۔
الصَّاغِرِينَ: ذلیل و خوار لوگ۔
تفسیر:
جب عزیزِ مصر کی بیوی نے دیکھا کہ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کا حسن دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور وہ سب حیران و ششدر رہ گئیں، تو اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: "یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں۔" اس کا مقصد یہ تھا کہ اب تم خود دیکھ چکی ہو کہ یہ کس قدر حسین و جمیل ہے، اس لیے میرا اس کی محبت میں گرفتار ہونا کوئی عجیب بات نہیں۔ پھر اس نے صراحت کے ساتھ اعتراف کیا: "میں نے خود اسے اپنی طرف بلایا اور اسے اپنی خواہش کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے انکار کر دیا اور اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔" یہ اعتراف اس لیے بھی تھا کہ وہ عورتیں جان لیں کہ یوسف علیہ السلام پر کوئی الزام نہیں، بلکہ وہ خود قصوروار ہے۔ اس کے بعد اس نے غرور اور تکبر سے کہا: "اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں، تو وہ ضرور قید میں ڈال دیا جائے گا اور ذلیل و خوار ہو کر رہے گا۔" یہ دھمکی اس لیے تھی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو اس شر سے محفوظ رکھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ پاکیزگی اور تقویٰ ہی اصل عزت ہے۔ یوسف علیہ السلام نے دنیاوی لذت اور عیش و عشرت کو ٹھکرا کر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دی، حالانکہ انہیں قید اور ذلت کی دھمکی دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قربانی کا صلاح انہیں عظیم عزت اور سلطنت کی صورت میں دیا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ گناہ کی دعوت چاہے کتنی ہی پرکشش ہو، مومن کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اللہ کی مدد انہیں ملتی ہے جو اس کی راہ میں صبر کرتے ہیں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ عورتوں کو بھی اپنی عزت اور حیا کی حفاظت کرنی چاہیے، اور مردوں کو بھی اپنے نفس پر قابو رکھنا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت، چاہے وہ سلطنت ہو یا حسن و جمال، اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہے۔ جو شخص اللہ کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کی یہ کہانی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ صبر اور تقویٰ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔