بَدَا لَهُم: ان کے سامنے ظاہر ہوا، ان کی رائے بدل گئی۔
الْآيَاتِ: وہ واضح نشانیاں اور دلائل جو یوسف علیہ السلام کی براءت پر دلالت کر رہے تھے (جیسے قمیص کا پیچھے سے پھٹنا، گواہ کی گواہی، وغیرہ)۔
لَيَسْجُنُنَّهُ: وہ ضرور انہیں قید میں ڈالیں گے۔
حَتَّىٰ حِينٍ: ایک مقررہ مدت تک، جو معلوم نہ تھی۔
تفسیر:
جب عزیزِ مصر اور اس کے ساتھیوں نے یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی اور براءت کے وہ واضح دلائل دیکھ لیے جو ان کی بےگناہی پر گواہ تھے، تو انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر یہ معاملہ کھل کر سامنے آیا تو ان کی عزت اور وقار پر بٹہ لگے گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی پہلی رائے (کہ اس معاملے کو نظر انداز کر دیا جائے) کو بدلتے ہوئے فیصلہ کیا کہ یوسف کو کچھ عرصے کے لیے قید میں ڈال دیا جائے، تاکہ لوگوں کی زبان بند ہو جائے اور یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیوی کا الزام جھوٹا ثابت ہو اور ان کی خاندانی بےعزتی ہو، اس لیے انہوں نے بےگناہ نبی کو قید کرنے کو ہی بہتر سمجھا۔
یہ وہی ظلم ہے جو حق کو چھپانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سچ کو نظر انداز کر کے اپنی عزت کو بچانے کی کوشش کی، لیکن یہ بھول گئے کہ اللہ کا فیصلہ ان کے منصوبوں سے بالاتر ہے۔ یوسف علیہ السلام کے لیے قید اگرچہ ظاہری طور پر مصیبت تھی، لیکن یہ اللہ کی حکمت کا حصہ تھی تاکہ ان کا مقام اور بلند ہو اور وہ اپنے رب کی طرف سے مزید آزمائشوں کے بعد عظیم منصب تک پہنچیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کو چھپانے کی کوشش کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، چاہے وہ کتنی ہی چالاکی کیوں نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی آزمائشوں کو ان کے لیے باعثِ ترقی بناتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کی قید بھی ان کے لیے رحمت بن گئی، کیونکہ اس کے بعد انہیں مصر کا خزانہ دار بنایا گیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ہمیشہ سچ کے ساتھ رہیں، چاہے ظاہری حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔