یوسف · 47/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ ۝٤٧
Qaala tazra`oona sab`a sineena da aban famaa basattum fazaroohu fee sumbu liheee illaa qaleelam mimmaa taakuloon
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • دَأَبًا: مسلسل، لگاتار، محنت اور مشقت کے ساتھ۔
  • فَذَرُوهُ: اسے چھوڑ دو، محفوظ رکھو۔
  • سُنبُلِهِ: اس کی بالیوں سمیت۔
  • تَأْكُلُونَ: تم کھاتے ہو۔

تفسیر آیت:

حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سات سال مسلسل محنت اور مشقت سے کھیتی باڑی کرو گے۔ یہ سات سال خوشحالی اور فراوانی کے ہوں گے، جیسا کہ خواب میں سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیاں اس کی علامت تھیں۔ اس دوران جو فصل تم کاٹو، اسے بالیوں سمیت ذخیرہ کر لو، کیونکہ بالیوں میں رہنے سے دانہ خراب نہیں ہوتا اور کیڑے سے محفوظ رہتا ہے۔ البتہ اپنی خوراک کے لیے تھوڑا سا حصہ علیحدہ کر لو، جو تمہاری ضرورت کے مطابق ہو۔ یہ تدبیر اس لیے تھی کہ آنے والے سات قحط کے سالوں میں تمہارے پاس غلہ موجود رہے، اور تم اس مشکل وقت کو آسانی سے گزار سکو۔

یہاں حضرت یوسف علیہ السلام نے نہ صرف خواب کی تعبیر بتائی بلکہ عملی منصوبہ بندی بھی سکھائی، جو دراصل ایک بہترین معاشی حکمت عملی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تدبیر اور صبر و استقامت کا درس ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو رزق دینے کے ساتھ ساتھ اس کے حصول اور حفاظت کے ذرائع بھی سکھاتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ حکمت عملی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں دور اندیشی اور منصوبہ بندی سے کام لینا چاہیے۔ جو شخص محنت کرتا ہے اور اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ مشکل وقت کے لیے تیاری کرنا سنت انبیاء ہے، اور یہ کہ صبر اور تدبر سے ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 45-49 — یوسف

45وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِ
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
46يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَّعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
47قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
48ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
49ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
47آیت

ترجمہ — یوسف 47

سورہ یوسف آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی…

سورہ آیت 47/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں