یوسف · 46/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَّعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ۝٤٦
Yoosufu ayyuhas siddee qu aftinaa fee sab`i baqaraatin simaaniny yaakuluhunna sab`un `ijaafunw wa sabi`i sumbulaatin khudrinw wa ukhara yaabisaatil la`alleee arj`u ilan naasi la`allahum ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صِدِّیق: بہت سچا، سچائی میں پختہ کار، جس کا قول و فعل اور علم و عمل سب سچ پر مبنی ہوں۔
  • سِمان: موٹی تازی، فربہ۔
  • عِجاف: دبلی پتلی، کمزور۔
  • سُنبُلات: گندم کی بالیں۔
  • خُضر: سبز، ہری بھری۔
  • یابِسات: خشک، سوکھی ہوئی۔

تفسیر:

جب قید خانے سے نکلنے والا وہ جوان ساتھی بادشاہ کے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے یوسف! اے بہت سچے نبی! ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے جس میں سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات ہری بھری بالیں ہیں اور سات ہی خشک سوکھی بالیں۔" اس نے یہ درخواست اس لیے کی تاکہ وہ بادشاہ اور اس کے درباریوں کے پاس واپس جا کر انہیں اس خواب کی حقیقت اور تعبیر سے آگاہ کر سکے، اور اس طرح لوگ یوسف علیہ السلام کی فضیلت، علم اور مقام کو پہچان سکیں اور انہیں قید سے رہائی مل سکے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم اور سچائی کا مقام اللہ کے ہاں بہت بلند ہے۔ یوسف علیہ السلام نے قید کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن ان کا علم اور صدق ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنا۔ یہ بات ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے کہ علمِ نافع اور سچائی پر عمل پیرا رہنا کبھی ضائع نہیں ہوتا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کو عزت عطا فرماتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو عطا فرمائی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ علم حاصل کریں، سچائی کو اپنائیں، اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ ہمیشہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 44-48 — یوسف

44قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِينَ
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
45وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِ
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
46يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَّعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
47قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
48ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
46آیت

ترجمہ — یوسف 46

سورہ یوسف آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف…

سورہ آیت 46/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں