Summa yaatee mim ba`di zaalika sab`un shidaaduny yaa kulna maa qaddamtum lahunna illaa qaleelam mimma tuhsinoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از آن پس هفت سال سخت مىآيد، و در آن هفت سال آنچه برايشان اندوختهايد بخورند مگر اندكى كه نگه مىداريد.
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شِدَادٌ: سخت اور دشوار سال، جن میں قحط اور خشک سالی ہو۔
یَأْكُلْنَ: کھاتی ہیں، یعنی ان سالوں میں لوگ ذخیرہ شدہ غلہ کھا جائیں گے۔
تُحْصِنُونَ: حفاظت کرتے ہو، محفوظ رکھتے ہو (یعنی بیج کے طور پر بچا کر رکھتے ہو)۔
تفسیر:
پھر ان سات خوشحال اور سرسبز سالوں کے بعد سات سخت اور دشوار سال آئیں گے، جن میں قحط اور خشک سالی ہوگی۔ یہ قحط کے سال اس قدر شدید ہوں گے کہ لوگ اپنا سارا ذخیرہ کھا ڈالیں گے جو انہوں نے خوشحال سالوں میں جمع کیا تھا۔ البتہ تھوڑا سا غلہ بچ جائے گا جو تم بیج کے طور پر محفوظ رکھو گے تاکہ آئندہ کاشت کے لیے کام آئے۔ یہ وہ حکمتِ الٰہی ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر میں بتائی، تاکہ لوگ آئندہ کی مشکلات کے لیے تیاری کر سکیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ عقل مند وہی ہے جو خوشحالی کے وقت میں آئندہ کی مشکلات کا اندازہ کر کے تیاری کرے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ علم عطا فرمایا تاکہ وہ قوم کو قحط سے بچا سکیں۔ یہ تدبیر اور منصوبہ بندی اسلام کا ایک اہم سبق ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے آئندہ کے لیے احتیاط اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ یہ آیت اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مصیبتوں سے نکلنے کا راستہ دکھاتا ہے، جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو خواب کی تعبیر کے ذریعے قوم کے لیے نجات کا ذریعہ بنایا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ کریں اور اپنی تدبیر میں بھی حکمت اور دور اندیشی سے کام لیں۔ یہی ایمان اور عقل کا تقاضا ہے۔
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔