Wa darabal laahu masalan qaryatan kaanat aaminatam mutma`innatany yaaateehaa rizquhaa rghadam min kulli makaanin fakafarat bi an`umil laahi fa azaaqahal laahu libaasal joo`i walkhawfi bimaa kaanoo yasna`oon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خدا قريهاى را مثَل مىزند كه امن و آرام بود، روزى مردمش به فراوانى از هر جاى مىرسيد، اما كفران نعمت خدا كردند و خدا به كيفر اعمالشان به گرسنگى و وحشت مبتلايشان ساخت.
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
قریة: بستی، شہر۔
آمنة: امن والی، جہاں کوئی خوف نہ ہو۔
مطمئنہ: چین و سکون والی، جہاں کے باشندے پر سکون ہوں۔
رغداً: کشادہ، آسان، بفراط۔
فکفرت: پس اس نے ناشکری کی۔
أنعم: نعمتیں (جمع نعمت)۔
أذاقها: اسے چکھایا۔
لباس الجوع: بھوک کا لباس (یعنی بھوک نے انہیں اس طرح ڈھانپ لیا جیسے لباس ڈھانپتا ہے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک بہت عبرتناک مثال بیان فرمائی ہے، جو ہر زمانے کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ وہ مثال ایک بستی کی ہے، جس کا نام مفسرین نے "مکہ" بتایا ہے۔ اس بستی کو اللہ نے ایسی نعمتیں دی تھیں کہ وہ امن و امان کا گہوارہ تھی، اس کے باشندے نہ کسی دشمن کا خوف رکھتے تھے اور نہ ہی کسی پریشانی میں مبتلا تھے۔ جبکہ ارد گرد کے علاقوں میں لوگ لوٹے جاتے تھے اور قتل و غارت گری عام تھی، مگر مکہ والے پر سکون اور مطمئن تھے۔ ان کے پاس رزق بھی ہر جگہ سے آتا تھا، تجارت، زراعت اور دوسرے ذرائع سے ان کی روزی کشادہ تھی، کوئی تنگی نہ تھی۔
لیکن ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہوں نے ناشکری کی، اللہ کی نعمتوں کو جھٹلایا اور شرک کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس ناشکری کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں بھوک اور خوف کا عذاب دیا۔ بھوک اس قدر شدید تھی کہ وہ مردار جانور اور کتے کھانے پر مجبور ہو گئے، اور خوف نے انہیں اس طرح گھیر لیا جیسے لباس انسان کو گھیر لیتا ہے۔ یہ عذاب ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا، کیونکہ اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا، بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ ہمیں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ناشکری نعمتوں کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جب کوئی قوم اللہ کی نعمتوں کو بھول جاتی ہے اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتی ہے، تو اللہ اس سے نعمتیں چھین لیتا ہے۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جن معاشروں میں اللہ کا ذکر کم ہوتا ہے، وہاں بے امنی، بھوک اور خوف عام ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں، اپنے اعمال درست کریں، اور اپنی بستیوں کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے لیے اللہ کی اطاعت کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی نعمتیں اس وقت تک قائم رہتی ہیں جب تک شکر ادا کیا جاتا ہے، اور جب ناشکری ہوتی ہے تو عذاب آتا ہے۔ اللہ ہمیں شکر گزار بندے بنائے اور ہماری بستیوں کو امن و سکون عطا فرمائے۔ آمین۔
پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔