اے نبی کریم ﷺ! آپ لوگوں کو اس ہولناک دن کا خوف دلائیں جب ہر شخص اپنی ذات کے لیے جھگڑتا ہوا آئے گا۔ اس دن کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکے گا، نہ کوئی باپ بیٹے کے لیے، نہ بیٹا باپ کے لیے، نہ دوست دوست کے لیے۔ ہر شخص صرف اپنی فکر میں ڈوبا ہوگا، اپنی نجات کی جستجو میں، اپنے اعمال کا حساب دیتے ہوئے۔
اس دن اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ نیکی ہو تو نیکی کا اجر، برائی ہو تو برائی کی سزا۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا۔ نہ کسی کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور نہ کسی کی برائیوں میں اضافہ۔ یہ اللہ کا عدل ہے جو انتہائی کامل ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی آخرت سنواریں۔ جس دن ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا، اس دن کوئی سفارشی کام نہ آئے گا۔ لہٰذا آج ہی سے ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے، نیکیوں میں اضافہ کرنا چاہیے اور برائیوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں زندگی دی ہے، یہ موقع ہے کہ ہم اسے غنیمت جانیں اور اپنے رب کی رضا کے لیے عمل کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کا عدل کامل ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بےپایاں ہے۔ جو شخص توبہ کر کے اللہ کی طرف پلٹتا ہے، اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے اور اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔ آئیے ہم سب اپنے رب کے سامنے جھکیں، اس کی اطاعت کریں اور اس دن کی تیاری کریں جب ہر نفس کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔