اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں اور کافروں کے انجام کو بیان فرمایا ہے جنہوں نے حق کو جھٹلایا اور اللہ کے دین کا مذاق اڑایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان پر ان کے برے اعمال کے نتائج اور سزائیں نازل ہوئیں، یعنی جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا، اس کا وبال انہیں پہنچ کر رہا۔ ان کے شرک، ظلم، تکبر اور گناہوں کی سزا نے انہیں گھیر لیا۔
پھر فرمایا کہ "اور انہیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے" یعنی جس عذاب سے انہیں ڈرایا جاتا تھا اور وہ اسے جھٹلاتے اور اس پر ہنستے تھے، وہی عذاب ان پر نازل ہو گیا اور انہیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ یہ اللہ کا عدل ہے کہ جو شخص حق کا مذاق اڑاتا ہے، وہ اسی حق کی سچائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے عبرت ہے جو اللہ کے دین، اس کے رسول اور اس کے وعدوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن جب پکڑتا ہے تو ایسی پکڑتا ہے کہ کوئی بچ نہیں سکتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی اللہ کے دین، قرآن اور رسول ﷺ کی تعلیمات کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے اور برے کاموں سے باز آ جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کے وعدوں پر یقین رکھے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے اور رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں، تاکہ ہم اس عذاب سے محفوظ رہیں جو ظالموں پر نازل ہوا تھا۔
(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ
کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں
اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔