اسراء · 60/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا ۝٦٠
Wa iz qulnaa laka inna rabbaka ahaata binnaas; wa maa ja`alnar ru`yal lateee arainaaka illaa fitnatal linnaasi washshajaratal mal`oonata fil quraan; wa nukhaw wifuhum famaa yazeeduhum illa tughyaanan kabeeraa
📖 اردو ترجمہ
جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَحَاطَ بِالنَّاسِ: اللہ تعالیٰ کا علم اور قدرت ہر انسان کو گھیرے ہوئے ہے۔
  • الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ: وہ رویا (خواب/مشاہدہ) جو آپ کو دکھایا گیا، یعنی شبِ معراج کا عینی مشاہدہ۔
  • فِتْنَةً: آزمائش اور امتحان۔
  • الشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ: وہ درخت جس پر لعنت کی گئی ہے، یعنی زقوم کا درخت۔
  • طُغْيَانًا: سرکشی، حد سے تجاوز کرنا۔

تفسیر:

اے نبی! وہ وقت یاد کریں جب ہم نے آپ سے فرمایا تھا کہ آپ کا رب تمام لوگوں کو اپنے علم اور قدرت کے دائرے میں گھیرے ہوئے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے حال، اس کے ارادوں اور اس کی چالوں کا مکمل علم ہے، اور وہی آپ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ یہ بات آپ کے لیے اطمینان کا ذریعہ تھی کہ آپ اپنا پیغام بلا خوف پہنچائیں، کیونکہ اللہ کی گرفت سے کوئی نکل نہیں سکتا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو رویا (شبِ معراج کا عینی مشاہدہ) آپ کو دکھایا، اسے لوگوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا۔ کچھ لوگ اس پر ایمان لائے اور کچھ نے اسے جھٹلا کر کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اسی طرح قرآن میں مذکور "شجرہ ملعونہ" یعنی زقوم کا درخت بھی لوگوں کے لیے امتحان ہے۔ جب مشرکین کو بتایا گیا کہ جہنم میں یہ درخت اگے گا، تو انہوں نے استہزاء کیا اور کہا کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ ان کی آزمائش تھی کہ وہ اللہ کی قدرت پر ایمان لاتے یا اپنی محدود عقل کو معیار بناتے۔

ہم انہیں طرح طرح کے عذاب اور نشانیوں سے ڈراتے ہیں، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ ڈرانا اور تنبیہ کرنا ان کی سرکشی اور ضلالت میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ وہ حق کے سامنے جھکنے کے بجائے اور زیادہ ہٹ دھرمی اور کفر پر اڑے رہتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، اور اس کی حفاظت میں جو شخص ہو اسے کسی کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نشانیوں پر غور کریں اور انہیں اپنی محدود عقل سے پرکھنے کے بجائے ایمان کی روشنی میں قبول کریں۔ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں، ان کا انجام سرکشی اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کی قدرت پر یقین رکھیں، اور اپنی زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالیں تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 58-62 — اسراء

58وَإِن مِّن قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا
اور (کفر کرنے والوں کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے
59وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا
اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو
60وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا
جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے
61وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے
62قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
60آیت

ترجمہ — اسراء 60

سورہ اسراء آیت 60 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں…

سورہ آیت 60/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 58–62. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں