اسراء · 61/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا ۝٦١
Wa iz qulnaa lilma laaa`ikatis judoo li Aadama fasajadooo illaaa Ibleesa qaala `a-asjudu liman khalaqta teena
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اسْجُدُوا: سجدہ کرو (یہاں سجدہ تعظیمی اور تکریمی تھا، عبادت نہیں)
  • إِلَّا إِبْلِیسَ: سوائے ابلیس کے (جو جنوں میں سے تھا اور اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ شامل تھا)
  • خَلَقْتَ طِینًا: تو نے اسے مٹی سے پیدا کیا

تفسیر:

اے نبی! اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو — یہ سجدہ عبادت نہیں بلکہ عزت اور تکریم کا سجدہ تھا، جس کا مقصد آدم علیہ السلام کے مقام و مرتبے کو نمایاں کرنا تھا۔ فرشتوں نے فوراً اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حکمِ الٰہی کی تعمیل کی اور سب نے سجدہ کیا۔ لیکن ابلیس نے سرکشی کی، تکبر کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے گستاخانہ انداز میں کہا: "کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے؟" یعنی اس نے اپنے آپ کو آدم علیہ السلام سے بہتر اور برتر سمجھا، کیونکہ وہ آگ سے پیدا ہوا تھا جبکہ آدم مٹی سے تھے۔

یہ واقعہ ہمیں کئی اہم سبق دیتا ہے:

پہلا سبق: اللہ تعالیٰ کا حکم بلا چون و چرا ماننا چاہیے۔ فرشتوں نے سوال نہیں کیا، اعتراض نہیں کیا، بلکہ فوراً تعمیل کی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو دل و جان سے قبول کریں۔

دوسرا سبق: تکبر سب سے بڑی اخلاقی برائی ہے۔ ابلیس کا زوال صرف تکبر کی وجہ سے ہوا۔ اس نے اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھا اور اللہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ آج بھی جو لوگ تکبر کرتے ہیں، حق کو قبول نہیں کرتے، وہ ابلیس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

تیسرا سبق: اصل فضیلت نسب، نسل، رنگ یا مادی چیزوں سے نہیں بلکہ تقویٰ اور اطاعت سے ہے۔ آدم علیہ السلام کی فضیلت اس لیے تھی کہ اللہ نے انہیں علم عطا کیا اور اپنا خلیفہ بنایا، نہ کہ اس لیے کہ وہ کس چیز سے بنے تھے۔

چوتھا سبق: یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بہت عزت دینا چاہتا ہے۔ فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں، یہ انسان کی عظمت کا اظہار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس عزت کے قابل بنیں، اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے مقامِ انسانیت کو پہچانیں۔

پانچواں سبق: ابلیس کا یہ انکار صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کی مستقل روش ہے۔ وہ ہمیشہ سے انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں اس کے وسوسوں سے بچنا چاہیے اور اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہمیں اس عظیم مقام کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، اپنے خالق کی اطاعت کرنی چاہیے، اور تکبر، حسد اور سرکشی جیسی برائیوں سے بچنا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور جنت تک پہنچائے گا۔ اللہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 59-63 — اسراء

59وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا
اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو
60وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا
جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے
61وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے
62قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا
(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا
63قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَّوْفُورًا
خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
61آیت

ترجمہ — اسراء 61

سورہ اسراء آیت 61 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو…

سورہ آیت 61/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 59–63. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں