Wa tarash shamsa izaa tala`at tazaawaru `an kahfihim zaatal yameeni wa izaa gharabat taqriduhum zaatash shimaali wa hum fee fajwatim minh; zaalika min Aayaatillaah; mai yahdil laahu fahuwal muhtad, wa mai yudlil falan tajida lahoo waliyyam murshidaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و خورشيد را مىبينى كه چون برمىآيد، از غارشان به جانب راست ميل مىكند و چون غروب كند ايشان را واگذارد و به چپ گردد. و آنان در صحنه غارند. و اين از آيات خداست. هر كه را خدا هدايت كند هدايت يافته است و هر كه را گمراه سازد هرگز كارسازى راهنما براى او نخواهى يافت.
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَزَاوَرُ: جھک جاتی ہے، مائل ہو جاتی ہے۔
تَقْرِضُهُمْ: انہیں چھوڑ دیتی ہے، ان کے پاس سے گزر جاتی ہے۔
فَجْوَةٍ: کشادہ جگہ، وسیع حصہ۔
تفسیر:
جب ان نوجوانوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کی اور غار میں پناہ لی، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند ڈال دی اور انہیں دشمن کے شر سے محفوظ رکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ان کا حال بتاتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے دیکھنے والے! اگر تم انہیں دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں طرف مائل ہو جاتا ہے، اور جب غروب ہوتا ہے تو بائیں طرف سے گزر جاتا ہے، اس طرح سورج کی تپش انہیں نہیں پہنچتی۔ اور وہ غار کے کشادہ حصے میں لیٹے ہوتے ہیں، جہاں سے انہیں ہوا بھی آتی رہتی ہے اور وہ گھٹن کا شکار نہیں ہوتے۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کے عجائبات میں سے ہے، جو اس کی کامل قدرت اور حکمت پر دلالت کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرماتا ہے کہ ہدایت اور گمراہی کا معاملہ مکمل طور پر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے دے، وہی حقیقی طور پر ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی بھی راستہ نہیں دکھا سکتا، کوئی ولی اور مددگار اسے ہدایت کی طرف نہیں لا سکتا۔ کیونکہ ہدایت دینا صرف اللہ کا کام ہے، کسی بشر کا نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ایمان والوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ جب بندہ اللہ کی رضا کے لیے اپنا گھر بار، قوم اور علاقہ چھوڑ دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کا مکمل انتظام کرتا ہے۔ جس طرح ان نوجوانوں کو اللہ نے غار میں محفوظ رکھا، سورج کی تپش سے بچایا، اور ان کے دشمنوں کو ان پر قابو نہیں دیا، اسی طرح آج بھی جو لوگ اپنے ایمان کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں، اللہ انہیں اپنی خاص حفاظت میں رکھتا ہے۔ اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ انہیں ہدایت پر قائم رکھتا ہے اور ان کے دلوں میں ایمان کی مضبوطی پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، اس کی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے، اللہ اسے ہدایت کی منزل تک پہنچا دیتا ہے، چاہے راستے میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں۔
ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے
اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے
اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے
اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔